ایک ہزار مجاہدین کو شہید کیا، ۱۸۵۷ء کی تحریک آزادی میں اکثر جگہ علماء نے ہی قیادت کی، اس دور کے مجاہدین علماء میں مولانا احمد اللہ شاہ کا نام بہت نمایاں ہے، جنہیں ۱۸۵۸ء میں شہید کردیا گیا، یہ ۱۸۵۷ء کی تحریک کے عظیم قائد رہے، اور انگریزوں کے خلاف اکثر سرگرمیوں کی قیادت انہوں نے ہی کی تھی۔
۱۸۵۷ کی تحریک بظاہر ناکام رہی؛ لیکن اس نے ملک کے ہر خطے میں روحِ جہاد وآزادی پھوک دی، ۱۸۶۶ء میں دارالعلوم دیوبند قائم کیا گیا، حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے آزادی کی ایک منظم کوشش شروع کی، جسے ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، حکومت برطانیہ کو اس تحریک کا سراغ کچھ ریشمی رومالوں سے ملا تھا، جن پر تحریک کی ضروری معلومات تھیں ، اس لئے اس کو تحریک ریشمی رومال کے نام سے شہرت دے دی گئی تھی، اس تحریک کا راز جولائی ۱۹۱۶ء میں فاش ہوا، اس وقت حضرت شیخ الہندؒ طائف (سعودیہ عربیہ) میں تھے، پھر حضرت شیخ الہند اور ان کے رفقاء جن میں سب سے نمایاں نام شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا ہے، گرفتار کرلئے گئے، فروری ۱۹۱۷ء میں قیدیوں کا یہ قافلہ مالٹا پہنچادیا گیا، اس قید سے مارچ ۱۹۲۰ء میں رہائی ہوئی۔
ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد مسلسل جاری تھی، نومبر ۱۹۱۷ء میں مفتی اعظم حضرت مولانا کفایت اللہ صاحب نے تحریک شیخ الہند کے قائدین کی گرفتاری پر احتجاج کے لئے ’’انجمن اعانت نظر بندانِ اسلام‘‘ قائم کی، پھر نومبر ۱۹۱۹ء میں جمعیۃ علماء ہند کے نام سے باضابطہ تنظیم تشکیل دی گئی، جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے آزادئ ہند کی تحریک پورے زور وشور سے جاری رہی؛ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ملک میں سب سے پہلے مکمل آزادی کا نعرہ ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ نے دیا۔
اگست ۱۹۲۰ء سے ملک گیر تحریک عدم تعاون شروع ہوئی، جس میں علماء اور مسلم عوام کا