میں مختلف مقامی امراء کی طرف سے غداریاں ہوئیں ، بالآخر بالاکوٹ کے میدان میں سکھوں سے زبردست مقابلہ ہوا، اور ۷؍مئی ۱۸۳۱ء کو حضرت سید صاحب اور حضرت شاہ اسماعیل شہید اپنے رفقاء کے ساتھ شہید ہوگئے، اس کے بعد اس تحریک سے وابستہ مجاہدین نے پٹنہ کے محلہ صادق پور کو اپنا مرکز بنایا، اور انگریزوں کے خلاف مجاہدین کو منظم کیا، علماء کی یہ جماعت علماء صادق پور کے نام سے مشہور ہوئی، اس میں نمایاں مولانا سید محمد علی رام پوری، مولانا ولایت علی عظیم آبادی، مولانا احمد اللہ، ہیں ۔ ۱۸۶۴ء میں انگریزوں نے مولانا احمد اللہ، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا یحییٰ عظیم آبادی سمیت ۸؍لوگوں کو پھانسی کی سزا سنائی، پھر اسے منسوخ کرکے انہیں کالا پانی (انڈمان) میں قید کردیا، جہاں مولانا یحییٰ اور مولانا احمد اللہ کی وفات ہوگئی، اور باقی لوگ ۱۸۸۳ء میں رہا ہوئے۔
انگریزوں سے پہلی باضابطہ جنگ ۱۸۵۷ء میں تمام ہندوستانیوں نے مشترکہ طور پر شروع کی، یہ مشترکہ کوشش میرٹھ سے شروع ہوئی، انگریزوں نے اس کوشش کو ’’غدر‘‘ (غداری) کا برا نام دیا، اس کوشش کے پہلے مرحلہ میں انقلابی دستے نے دہلی پر قبضہ کرکے بہادر شاہ ظفر کو ہندوستان کا بادشاہ بنانے کا اعلان کیا، لیکن پھر انگریزوں نے وسائل کی کثرت کی وجہ سے اور وطن فروش غداروں کی مدد سے اپنا تسلط جمالیا اور بہادر شاہ ظفر کو ۱۹؍ستمبر ۱۸۵۷ء کو گرفتار کرکے رنگون جلاوطن کردیا، اس طرح دہلی پر انگریزوں کا مکمل قبضہ ہوگیا، انگریزوں نے مجاہدین آزادی پر ہر ممکن ظلم وستم کیا، صرف ۱۸۵۷ء میں ۲۷؍ہزار مسلمانوں کو پھانسی دی، قتل عام میں جو مارے گئے ان کا تو شمار ہی نہیں ۔
اکابر علماء دیوبند (حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت حافظ ضامن شہیدؒ) نے اپنے مرشد حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے ہاتھ پر بیعت جہاد کی، اور انگریزوں کے خلاف منظم فوجی کارروائیاں شروع کیں ، جہاد کا اعلان ہوا، شاملی میں معرکہ آرائی ہوئی، اس میں حافظ ضامن شہید بھی ہوئے، تھانہ بھون میں انگریزوں نے