روزے سے متعلق ضروری باتیں
صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے پینے اور جنسی خواہشات سے رک جانے کا نام روزہ ہے، ہر مسلمان عاقل بالغ مرد وعورت پر رمضان کے پورے مہینے کا روزہ فرض ہے، روزے کی فرضیت کا حکم ۲ھ میں آیا ہے، فرض روزے کی نیت ’’بصوم غد نویت من شہر رمضان‘‘ کے الفاظ سے کی جاسکتی ہے۔
سفر، عذر اور بیماری کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؛ لیکن بعد میں قضا ضروری ہے، اگر اتنی کمزوری یا بڑھاپا ہے کہ کسی بھی طرح سے روزہ رکھنے کی طاقت نہیں ، تو فدیہ دینا ضروری ہے۔ عیدالفطر ، عیدالاضحی کے ایام اور ایام تشریق (۱۱-۱۲-۱۳؍ذی الحجہ) کے روزے حرام ہیں ، اگر کسی کے ذمے روزے قضا تھے مگر اس کی وفات ہوگئی، تو اس کی طرف سے ان قضاء روزوں کا فدیہ دیا جانا ضروری ہے، فدیہ کی مقدار ہر روزے کے بدلہ تقریباً پونے دو کلوگیہوں یا ساڑھے تین کلو جو یا ان میں کسی ایک کی قیمت یا ان کی قیمت کے برابر کوئی دوسرا غلہ مثلاً چاول وغیرہ کسی غریب کو دینا ہے، جان بوجھ کر بلاعذر روزہ چھوڑنا بدترین گناہ ہے، اور ایسے شخص پر ایک روزہ کے بدلے ساٹھ روزے بلاناغہ ترتیب سے رکھنے ضروری ہیں ، روزہ نہ رکھ سکتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا ضروری ہے۔
روزے کے مستحبات
(۱) سورج ڈوبتے ہی نماز سے پہلے روزہ کھولنے میں جلدی کرنا۔ (۲) کھجور یا چھوارے سے افطار کرنا اس کے بعد پانی کا درجہ ہے۔ (۳) جس چیز سے روزہ افطار کیا