آپ کو مکہ سے بیت المقدس پھر وہاں سے آسمانوں اور جنت کا سفر کرایا گیا، اس سفر کو ’’معراج‘‘ کہا جاتا ہے، اس سفر میں آپ نے بڑے عجائب دیکھے، آسمانوں پر گئے، انبیاء سے ملاقات کی، جنت وجہنم کو دیکھا، اللہ کا دیدار کیا، اور ہم کلامی کا شرف ملا، اس سفر کاسب سے اہم تحفہ پانچ نمازیں ہیں ۔
ہجرت اور قیام مدینہ منورہ
مکہ کی زمین مسلمانوں کے لئے تنگ ہورہی تھی اور ظلم وستم کی حد ہوچکی تھی، کچھ مسلمان پہلے ہی مکہ چھوڑکر حبشہ جاچکے تھے، بالآخر مدینہ ہجرت کا حکم آیا، اور مسلمان مدینہ ہجرت کرنے لگے، نبوت کے تیرہویں سال آپ نے حضرت ابوبکر کے ساتھ ہجرت کا سفر شروع کیا، غارثور میں تین دن قیام رہا، اللہ نے عجیب طریقے سے آپ کی حفاظت کی، اللہ کے حکم سے مکڑی نے جالا تن دیا، اور کبوتری نے انڈے دے دئے، تلاش کرنے والے وہاں آگئے تو مکڑی کا جالا اور کبوتری کے انڈے دیکھ کر ان کو یقین ہوگیا کہ یہاں کوئی نہیں ہے۔ پھر آپ ۸؍ربیع الاول ۱۴؍نبوی یعنی یکم ہجری مطابق ۲۳؍ستمبر ۶۲۲ء بروز پیر قبا پہنچے، وہاں مسجد قبا کی بنیاد رکھی، قبا میں چار دن قیام کیا، پھر مدینہ تشریف لائے اور حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر مہمان ہوئے، مدینہ میں آپ کا پرتپاک استقبال کیا گیا، مدینہ کا نام پہلے یثرب تھا، جسے بدل کر ’’مدینہ‘‘ کردیا گیا، اور آپ کو سب نے اپنا امیر وقائد تسلیم کرلیا، مدینہ پہنچ کر آپ نے ایک کام تو مسجد نبوی کی تعمیر کا کیا، اور بذاتِ خود اس تعمیر میں حصہ لیا، دوسرا کام مہاجرین اور انصار (مدینہ کے مقیم قبیلۂ اوس وخزرج کے مؤمن باشندوں ) کے درمیان مواخات (بھائی چارہ) کا رشتہ قائم کیا، تیسرا کام تجارتی منڈی کے قیام کا کیا، چوتھا کام یہ کیا کہ یہودیوں اور دیگر قبائل سے پرامن معاہدے کئے۔
غزوۂ بدر
تاریخ اسلام کی سب سے پہلی جنگ اور غزوہ ’’غزوۂ بدر‘‘ ہے، یہ غزوہ ۱۷؍رمضان