انگریزوں نے بنگال میں ۲۴؍پرگنہ پر قبضہ کرلیا، یہ ہندوستان میں انگریزوں کا پہلا باضابطہ قبضہ تھا۔
۱۷۶۷ء میں دہلی کے مغل بادشاہ شاہ عالم، نواب شجاع الدولہ حاکم اودھ اور مرشد آباد کے حاکم جعفر کے داماد قاسم کی مشترکہ فوجوں کا میدان بکسر میں انگریزوں سے مقابلہ ہوا، مگر انگریزوں کی سات ہزار کی فوج مسلمانوں کی ۵۰؍ہزار کی فوج پر غالب آگئی، اس شکست کے بعد شاہ عالم نے انگریزوں سے صلح کرکے اور ان کا وظیفہ قبول کرکے بہار، بنگال اور اڑیسہ کا پورا علاقہ ان کے سپرد کردیا۔
انگریزوں سے تیسرا معرکۃ الآراء مقابلہ ریاست میسور کے حاکم سلطان ٹیپو شہید نے کیا، لیکن اس کو اپنوں کی سازش (جن میں بطور خاص میر صادق جیسا غدار تھا) کی وجہ سے اور مرہٹوں کی انگریزوں کی حمایت کی وجہ سے شکست ہوئی، ۴؍مئی ۱۷۹۹ء کو سلطان ٹیپو انگریزوں سے لڑتے ہوئے سری رنگا پٹنم کے میدان میں شہید ہوا، انگریزوں نے ٹیپو کی لاش دیکھ کر راحت محسوس کی اور کہنے لگے کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے، اس کے بعد انگریزوں نے بنگال وکرناٹک کے علاوہ پنجاب سندھ اودھ برما ہر جگہ اپنا قبضہ جمالیا، ۱۸۰۳ء میں انگریز فاتحانہ دہلی میں داخل ہوگئے، اس صورتِ حال سے متأثر ہوکر حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلی رحمۃ اللہ علیہ نے جہاد کا فتویٰ جاری کیا، انہیں کے حکم سے حضرت سید احمد شہید رائے بریلویؒ نے تحریک اصلاح وجہاد قائم کی، عوام کی ذہن سازی کے لئے ملک کے تمام اہم علاقوں کا دورہ ہوا، پھر ۱۷؍جنوری ۱۸۲۶ء کو حضرت سید احمد شہید نے رائے بریلی سے صوبہ سرحد کی طرف سفر ہجرت وجہاد شروع کیا، آپ کے ساتھ ۱۵؍سو مجاہدین تھے، آپ نے سکھوں سے کئی مقابلے کئے، سکھوں سے مقابلے کی ایک وجہ ان کا مسلمانوں پر ظلم تھا، دوسرے یہ کہ اسلامی علاقوں اور انگریزوں کے مقبوضہ علاقوں کے درمیان رکاوٹ صرف سکھوں کی حکومت تھی، انہیں ختم کئے بغیر انگریز کا خاتمہ نہیں ہوسکتا تھا، لیکن سرحد کے علاقے