ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
آپ سب کو کہتا ہوں کہ آپس میں بہت اتفاق و اتحاد رکھوگے اور معمولی باتوں پر ناراض نہ ہوں۔مسعود کے والد اسماعیل کو کہتا ہوں کہ میرے بعد میرے بچوں پر دست شفقت رکھیں اور ان کی سرپرستی کریں ۔محمود کو کہتا ہوں کہ میرا تو ارمان تھا کہ تمہاری شادی کا سہرہ تمہاری دستار بندی سے پہلے دیکھوں گا لیکن قسمت میں شائدنہ ہو تو یہ کہتا ہوں کہ پہلے فوراً اس کی شادی کردی جائے پھر دستار بندی ہوگی اور جب فراغت ہوگی تو پھر ہمارا آبائی اور اجدادی مشغلہ تعلیم و تدریس جاری رکھے اور اسعد کا امتحان جب ہوجائے تو حفظ شروع کردے اور جب مکمل ہوجائے تو پھر درس نظامی شروع کردے اور دوران تعلیم اس کی شادی کردی جائے۔ بچی کے بارے میں جب وہ لوگ مطالبہ کردیںتو بہت اچھی شادی کردی جائے اور اس میں ہر چیز کا اہتمام کیا جائے۔کچھ پیسے مولاداد کے امانتاً رکھے ہیں اس کا حساب کتا ب ایک کتابچہ میں مکمل لکھا ہے۔ابھی گائوں کے گھر پر جو کام شروع ہے اس پر کام جاری رکھا جائے تاکہ جلد از جلد مکمل ہو۔ شاید میں اسے دیکھ سکوں اور اس میں ایک رات گزار سکوں۔یہ باتیں بطور یاد دہانی میں نے ذکر کردی ہیں تاکہ آپ لوگ بھول نہ جائیں۔میں نے اللہ کیساتھ معاملہ صاف کردیا ہے باقی اللہ کی رحمت پر مجھے امید ہے انک کریم عفوکریم اللہم انک ودود عفو فاعف عنا۔ میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں عاشق رسولؐ ہوں اللہ نے مجھے ہسپتال میں بھی توفیق دی کہ ہزاروں بار درود شریف پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ، میں چاہتا ہوں کہ اتنی بار درود پڑھوں کہ پیدائش سے وفات تک کے عرصے پر تقسیم کردیا جائے تو ایک دن میں ۱۰۰ بار درود شریف آجائے۔اگرچہ یہ مشکل تھا لیکن الحمد للہ بطور تحدیث بالنعمت ذکر کر رہاہوں کہ میں نے تقریباًتقریباً اس کا احاطہ کرلیا ہے اس لیے کہ رسول اللہ ا سے مجھے والہانہ محبت ہے اور وہی میری شفاعت فرمائیں گے ان شاء اللہ۔ محمود کی والدہ سے بھی بخشش طلب کرتا ہوں کہ اگر آپ کے حقوق میں کوئی کمی کی ہویا زیادتی و ظلم کیا ہو تو معافی چاہتا ہوں کیونکہ الظلم ظلمات من یوم القیامۃ تو مجھے معاف کردیں اور ہم نے ایک ساتھ بہت اچھی اور باحیا زندگی گزاری ہے۔ دوست اکثر مجھے مذاقاً کہا کرتے تھے کہ آپ کی دوسری شادی کرادیتے ہیں تو میں کہتا تھا کہ آخر کیوں؟ اس بے چاری نے کیا گناہ کیا ہے ؟یہ تو نامناسب ہوگا حالانکہ وہ لوگ مذاقاً کہا کرتے تھے۔ میں آپ سے بہت خوش ہوںاللہ آپ کو دنیا وآخرت میں خوشیاں دے۔ میری وفات کے بعد میرا پہلا جنازہ اکوڑہ میں ادا کیا جائے اور دوسرا جنازہ گاؤں میں کیا جائے اور تدفین بھی والدین کے قریب کی جائے۔ پہلا جنازہ اکوڑہ میں ادا کیا جائے تاکہ دور دراز کے لوگوں کو آنے میں آسانی ہو۔اکوڑہ میں جنازہ حضرت مولانا سمیع الحق صاحب پڑھائیں گے اگر وہ نہ ہوں تو پھر حضرت مولانا انوار الحق صاحب پڑھائیں اور گاؤں کا جنازہ مولانا فضل علی حقانی صاحب پڑھائیں یااگر وہ چاہیں تو اپنا اختیار دوسرے اکابرین کو بھی سونپ سکتے ہیںمثلا ڈاگئی باباجی(بقیۃ السلف مولانا حمد اللہ جان ‘فاضل مظاہر العلوم سہارنپور مراد ہیں) یا دوسرے اکابرین وغیرہ کو۔