ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
دعائیں لو ۔ دونوں بھائی حضرت فانی صاحب کے حوالہ سے مذاکرہ میں شریک ہوئے ۔ ایک دلچسپ لطیفہ : مولانا عبدالقیوم حقانی نے فرمایا کہ جب ہسپتال میں فانی صاحب کی عیادت کے لئے ہم لوگ گئے ۔ تو انہوں نے اپنے کلام کا کچھ حصہ سنایا ، اور ایک لطیفہ بھی سنایا کہ میں نے اپنی کتاب نالہ زار ایک اچھے بھلے تعلیم یافتہ آدمی کو تحفہ میں پیش کی ۔ انہوں نے پڑھی اور مجھے ٹیلی فون کیا کہ میں نے آپ کی ساری کتاب پڑھ لی ہے ۔ علم وادب کا مرقع ہیں۔ آپ نے اس کا نام نالہ زار کیوں رکھا ۔ بلکہ نالہ نام رکھ کر بہت ظلم کیا۔ اس کا نام تو دریا زار یا سمندر زار ہونا چاہئے تھا ۔ یہ کتاب تو علم وادب کا ایک بحرِ بیکراں ہیں۔ مولانا راشد الحق صاحب نے فرمایا ہاں ہاں، ان صاحب کو میں بھی جانتا ہوں۔ جناب شفیق الدین فاروقی صاحب (ان کو اللہ تعالیٰ صحت کاملہ عاجلہ عطافرمائے) انہوں نے جب فانی صاحب کا یہ لطیفہ سنا تو فرمایا کہ اس بے چارے کو معذور سمجھو، کیونکہ ان کے گھر کے سامنے نالہ(لئی راولپنڈی) بہتا ہے۔ انہیں ہر وقت نالہ مستحضر رہتا ہے۔ اس لئے اسے نالہ کے مصداق میں سبقت فہمی ہوگئی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق صاحب مسکراتے رہے اور فانی صاحب کے لطیفوں سے محظوظ ہوتے رہے ۔ تدریس ِحدیث پر تشکر وامتنان: مولانا حقانی صاحب نے شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق سے عرض کیا کہ استاذ جی! فانی صاحب آپ کی سرپرستی معاونت‘ تشجیعات اور حوصلہ افزائیوں پر بہت خوش تھے ۔اور مجھے بارہا فانی صاحب کہا کرتے تھے کہ استاذ مکرم حضرت مولانا سمیع الحق صاحب کی عنایت ‘ تشجیع اور حوصلہ افزائی سے میں دورۂ حدیث کے کتب تک پہنچا اور حقانی اساتذۂ حدیث کی فہرست میں میرا نام بھی درج ہوا ۔ مولانا راشد الحق نے کہا کہ یہی بات کرتے ہوئے ایک موقعہ پر فانی صاحب نے بہت مسرت کا اظہار کیا اور یہ مصرعہ سنایا … ع اس کے بعد آئے جو عذاب آئے میں نے عرض کیا اس کے بعد رحمتیں آئیں گی اور برکات کا نزول ہوگا ۔ اللہ کے دروازے کھلے رہتے ہیں: مولانا لقمان الحق نے کہا کہ حضرت فانی صاحب نے بیماری سے تقریباً دو ہفتہ قبل مجھے ہاتھ سے پکڑا اور اپنی بیٹھک میں لے جا کر فرمایا کہ تم سے ایک راز کی بات کہتا ہوں ۔ اللہ کی عنایت ومہربانی اور نصرت کا واقعہ ہے تم پر ظاہر کر دوں گا۔ تو دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے گا ۔ اور تحدیث نعمت کے امر پر عمل بھی ہو جائے گا ۔ فرمایا آج