ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
دینی مدارس کی تاریخ اور روزمرہ معلومات سے باخبر رہے ۔ سیاسی تحریکوں سے بھی شناسا تھے آپ کو پشتو، عربی ، فارسی اور اردو شاعری اور ادب کی تاریخ پر بھی کافی عبور حاصل تھا ۔ اس لئے جب آپ کسی مجلس میں تاریخ پر بولتے تو سامعین کی خواہش ہوتی کہ آپ بولتے رہے اورہم سنتے رہے ۔ خطابت: حضرت مولانا ابراہیم فانی ؒخطابت کے بے تاج بادشاہ تھے فن خطابت میں یدطولیٰ رکھتے ۔آپ کا اندازبیان انتہائی دلکش جامع اور پراثر ہوا کرتا ۔ اپنی شیریں زبانی سے تقریر کے حسن کو دوبالا کرتے ۔ آپ ایک بلند پایہ عالم ، مصنف ادیب ، شاعر اور محسوس کرنے والے انسان تھے ۔ اس لئے اپنی تقریرکو ادیبانہ واقعات ، اشعار اور لطائف سے مزین کرتے ۔ آپ کسی بھی موضوع پر جب بولنے کے لئے اٹھتے تو ایسے دلکش ، فصیح ، وبلیغ اورمیٹھے انداز میں تقریر کرتے کہ ایک ایک بات کو سامعین کے ذہن میں بٹھا تے ۔ آپ کی تقریر میں سامعین بوریت کا شکار نہیں ہوتے ۔ بلکہ سامعین مزید سننے کی خواہش رکھتے ۔ تقریر میں جہاں دلائل کی ضرورت محسوس ہوتی آپ قرآنی آیات اور احادیث نبوی ؐ سے دلائل کے انبار لگاتے ۔غرض یہ کہ فن تقریر کی باریکیوں سے خوب واقف تھے ۔ بے شک آپ ایک متحرک ، فعال ، جی دار اورعملی جدوجہد سے سرشار انسان تھے آپ کی ساری زندگی علوم نبوی کی آبیاری کرتے ہوئے گزری ۔آپ نے کبھی دنیاوی اختربختر کو اہمیت نہ دی ۔ گو کہ آپ دنیا زندگی میں ہمیشہ تہی دامن رہے لیکن آپ نے کبھی دنیاوی تہہ دامنی کو دینی مال ومتاع پر غالب نہیں آنے دیا ۔ بلکہ آپ ہمیشہ دینی مال ومتاع کو سینے سے لگاکر صبر ورضا اور شکر کے پیکر بنے رہے ۔ حرف شکایت کبھی زبان پر نہیں لائی اور راہِ استقلال میں نمونہ اسلاف بنے رہے اور خودی خودداری اور فقر میں ہمیشہ اکابرین کی راہ پر گامزن رہے جب کسی محفل میں وارد ہوتے تو جلد ہی اپنی شیریں زبانی ، کی بدولت میرمحفل بن جاتے ۔ آبائی مٹی سے محبت اور عقیدت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے اپنے والد محترم پر لکھی گئی کتاب ’’حیات صدرالمدرسین ‘‘ میں ’’زروبی ‘‘ کے عنوان سے شامل نظم سے ملتاہے ۔ جس میں آپ نے اپنے جنم بھومی کے ذرے ذرے کو والہانہ انداز میں خراج عقیدت پیش کی ہے آپ سے اساتذہ سے عشق کرنے والے انسان تھے ۔ جب راقم اور مولانا اعزازالحق صاحب’’تذکرہ حضرات شیخین ‘‘کی تدوین کے سلسلے میں دارالعلوم حقانیہ جاتے تو کمزوری اور بیماری کے باوجود عزیزم بابر حنیف کے دفتر میں ہماری آمد سے پہلے موجودہوتے اور ہماری رہنمائی فرماتے ۔ آج حضرت مولانا محمد ابراہیم فانی بظاہر فانی تخلص ہم سے بچھڑ گئے لیکن وہ اپنے کارہائے نمایاں کی بدولت ہمیشہ زندہ جاوید رہیں گے ۔ بقول معروف نقاد اور ادیب نورالامین یوسفزئی کہ تخلیق کا رکبھی نہیں مرتا وہ اپنے فن پاروں کی وجہ سے ہمیشہ زندہ ہوتا ہے ٭ ٭ ٭