ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
مسلمانوں کے موجودہ دور میں زبوں حالی ، سماجی نا انصافی ، معاشرہ میں بے راہ روی اور بگاڑ، خاندانی نظام کی تنزلی ، اقرباپروری اور دیگر مضرات کو نہ صرف اپنا دل بینا سے محسوس کرتے ، بلکہ اس کا رونا بھی روتے ، یہی وجہ ہے کہ آپ کی شاعری میں جہاں بحیثیت ایک عالم خوف خدا کا درس ،عشق رسول سے سرشاری ،دین کی رسی سے مضبوط بندھن ، اسلاف کے نقش قد م پر چلنا اور مکمل اسلامی تعلیمات سے اپنے آپ کو متصف کرنا شامل ہیں تو وہاں اس دور پرفتن میں زندگی گزارنے اور اس میں موجود ناہمواریوں کو محسوس کرنا اور خوداپنی زندگی کے نشیب وفراز او رابتلاء ہائے کی وجہ سے آپ کی شاعری میں دردوالم اور دنیا کی بے ثباتی کی جھلک نمایاں ہے ۔ بلکہ بسا اوقات تو آپ کی شاعری پرایسا گمان پڑتا ہے کہ آپ کی شاعری کا مرکزی موضوع ہی درد والم ہے ۔ سوانح نگاری : مولانا مرحوم سوانح نگاری میں اپنی مثال آپ تھے ۔ آپ نے بہت سے نابعہ روزگار شخصیات کی حیات اور کارہائے نمایاں پر بہت سے مضامین تحریرکئے ہیں ۔جو مختلف رسائل اور جرائد میں بکھرے پڑے ہیں ، سوانح نگاری میں’’حیات صدرالمدرسین‘‘ اور ’’حیات شیخ القرآن ‘‘آپ کی حیات میں منظر عام پر آچکی تھیں ۔ حیات صدرالمدرسین میں آپ نے اپنے والد مولانا عبدالحلیم ؒ کی زندگی، دینی خدمات ، ان کے اساتذہ تلامذہ کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اسی طرح حیات شیخ القرآن میں اپنے استاد حضرت مولانا عبدالہادی المعروف شاہ منصور باباجی کی 60 سالہ دینی خدمات کو پیش کیا ہے آپ نے 1976 میں شاہ منصور میں آپ سے دورہ تفسیر پڑھاتھا اور ان دنوں علم میراث میں حضرت مولانا شیخ شمس الہادی ؒ سے استفادہ کیا تھا مرثیہ نگاری: بلاشبہ آپ خیبر پختونخوا کے عظیم اور منفردمرثیہ نگار تھے مرثیہ نگاری میں شاید اس خطے میں کوئی آپ کا ہم پلہ ہو، آپ نے اپنے دور کے اکثر علماء ، مشاہیر او راساتذہ کرام پر مرثیے لکھے ہیں ، آپ جب کسی مرحوم پر قلم اٹھاتے تو مرحو م اور اس کے کارہائے نمایاں کو مجسم اندازمیں قاری کے سامنے پیش کرتے اور جب مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے اور اس کی رحلت پر ماتم کناں ہوتے تو قاری کو رلانے پر مجبور کرتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مرثیہ نگاری کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونی ملک میں وہ پذیرائی اور شہرت حاصل ہے جو کم لوگوں کے حصہ میں آتی ہے ۔ بلامبالغہ آپ انیس اور مرزا،دبیر کے پائے کے مرثیہ نگار تھے ۔ آپکے مرثیے وقتا فوقتا مختلف رسائل جرائد اور اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ مولانامرحوم کے غیر مطبوعہ مضامین اور مرثیے اکٹھے کرنا اور کتابی صورت میں شامل کرنا ضروری امر ہے تاکہ اس طرح یہ محفوظ ومامون بن سکے ۔اور آئندہ نسلیں اس سے بہر ور ہوسکیں ۔ مورخ : حضرت مولانا مرحوم نے صرف اپنے آبائی ضلع صوابی اور خیبر پختونخوااور پختونوکی تاریخ سے حددرجہ واقفیت رکھتے تھے بلکہ آپ قدیم تہذیبوں اور مذاہب کی تاریخ سے بھی پوری طرح آشنا تھے ۔ اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر آج تک تمام اسلامی تحریکوں اور بالخصوص برصغیر کے علماء ومشائخ اور صوفیانہ کام کی تاریخ تو گویا ازبر تھی ۔