ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
ہے) جہاں فارسی، عربی زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں، وہاں اردو میں بھی وہ نہایت روانی اور آسانی سے شگفتہ انداز میں واردات قلبی اور معاملات حسن و عشق، احساس محرومی، غم جاناں اور غم دورا ں کو سپرد قلم کرسکتے ہیں ۔ آپ کی نظموں اور غزلوں میں جو بیساختہ پن اور روانی ہے، وہ دوسرے پشتون شعراء کی اردو شاعری میں شاید آپ کو کم ہی ملے، فانی اپنے دل کی بات دوسروں کے دلوں تک پہنچانے کا فن جانتے ہیں۔ آپ کی یہ فنکارانہ صلاحیت جہاں آپ کی پشتو، فارسی اور عربی شعری فن پاروں میں نمایاں ہے وہاں آپ کی اردو شاعری میں بھی بھرپور انداز سے جھلکتی ہے۔ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں فانی صاحب کے چند اشعار مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں جنکے مطالعے سے قارئین کرام خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس مجموعے کے شاعری کس درجے کی ہے۔
____
شوخی رفتار اپنی ناز برداروں سے پوچھ تلخئی راہ محبت عشق کے ماروں سے پوچھ
چارہ سازی چھوڑ دی ہم نے جنون عشق کی اس مرض کی چارہ گر کوئی دوا ہو یا نہ ہو
____
طعنہ ہائے گمرہی ہم سہہ رہے تھے رات دن راہ پر جب آگئے تو رہنما کوئی نہ تھا
____
سبحہ گردانی نہیں بس ذوقِ ایمانی کا نام جب ترے سینے میں زاہد سوزِ سلمانی نہیں
____
میں ہی محروم تمنا تشنہ کام دید ہوں میکدے میں ورنہ فیضِ ساقی گلفام ہے
____
اپنی قسمت سے گلہ تھا ان سے کچھ شکوہ نہ تھا اس حسین پیکر نے میرے عشق کو سمجھا نہ تھا
____
مرا شوق ِ جبیں سائی نہ انداز نوا بدلا مگر تیرا نہ اے ظالم یہ عنوانِ جفا بدلا
بے خودی خطرے میں ہے دیوانگی خطرے میں ہے اے غمِ ہستی مری آوارگی خطرے میں ہے
____
اب تو یہ دل ہے بسانِ قطرۂ آبِ رواں اے مریض دل نہ رو ورنہ ٹپک جاتا ہے دل
____
ہم بڑھے جاتے تھے انجام سفر سے بے خبر رک کے جب منزل پہ دیکھا کوچۂ صیاد تھا