ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
والارض وما کا نو امنظرین‘‘ نہ ان (فرعون اور اس کے متبعین)پر آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو ڈھیل ملی۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہو تا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں(او لیاء وصلحاء اور مشائخ و علماء و غیرہم) کی وفات پر آسمان بھی روتا ہے اور زمین بھی ۔روایات میں آتاہے کہ اللہ کے نیک بندے کے مرنے پر آسمان کا وہ دروازہ روتاہے جس سے اس کی روزی اترتی تھی یا جس دروازے سے اس کا عمل صالح اوپر چڑھتا تھا،اسی طرح جہاں وہ نماز پڑھتا تھا، ذکر واذکار میں جس جگہ مشغول رہتا، مسند حدیث و مسند درس وتدریس پر جہاں جلوہ افروزہو تا، غرض وہ تمام مقامات جہاں جہاں انہوں نے قدم رکھا ہو ،نشست و بر خاست کی ہو وہ تمام مقامات روتے ہیںاور افسوس کرتے ہیں کہ ہم اس سعادت سے محروم ہو گئے ۔ حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم فانی ؒ علماء و مشا ئخ کے زر خیز خطہ ضلع صوابی کے گاؤںزروبی میں حضرت العلامہ جامع المعقول و المنقول استاذ العلماء امام المتکلمین حضرت مولانا عبدالحلیم زروبوی(نور اللہ مرقدہ)کے ہاں پیدا ہو ئے آپؒ کے والد کاعلمی مرتبہ و مقام اور جاذب نظر شخصیت سے ہر خاص وعام واقف ہے۔علمی دنیا آپؒ کو صدر صاحب’’صدرالمدرسین اور امام المتکلمین‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ آپؒ نے طویل عرصہ تک دارالعلوم حقانیہ کو اپنے فیو ضات سے نوازا۔دارالعلوم حقانیہ کی تعمیر و تر قی اور اُس کو اعلیٰ مقام تک پہنچانے میں آپؒ کا بہت بڑا کردار ہے۔آپؒ کے خلف الرشید حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم فانی ؒ کو بھی قدرت نے گونا گوں صلا حیتوں اور اعلیٰ صفات سے نوازا تھا۔ آپؒ نے اکا برعلماء اور صلحاء بانی دارالعلوم حقانیہ عارف باللہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق صاحبؒ،فقیہ العصر مفتی اعظم شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد فرید صاحبؒ، صدر المدرسین امام المتکلمین شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحلیم زروبویؒ،شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان صاحب شہیدؒ (نور اللہ قبورہم)شیخ الحدیث حضرت مولاناسمیع الحق صاحب دام فیو ضہم اور شیخ الحدیث حضرت مو لانا انوارالحق صاحب مد ظلہ العالی و غیرہم کی صحبت مبارکہ میں رہ کر ان سے بھر پو ر استفادہ اور استفاضہ کیا تھا۔ ان اکابر ین امت میں سے ہر ایک نے آپؒ کو شفقت اور محبت کی نگا ہ سے نوازا تھا۔آپؒ کی تمام زندگی علم وعمل اور خدمت دین کی ترویج واشاعت میں بسر ہو ئی۔آپؒ نے ۱۹۷۸ء میں دارالعلوم حقانیہ سے سند فراغت حاصل کر نے کے بعد اپنے والد بزرگوار کے نقش قدم پر چل کر دارا لعلوم حقا نیہ میں تمام عمر درس وتد ریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ترویج علم دین پر حریص ہو نے کی وجہ سے زند گی کی آخری ایام تک اس پر کار بند رہے اور ہزاروں کی تعدادمیں وارثان علم نبوت کی علمی تشنگی کی پیاس بجھا ئی۔ آپؒ کا انداز درس آسان اور عام فہم تھا، دوران درس اپنے اساتذہ کرام کے صدوری(جو سینے سے سینے کو منتقل ہوتے ہیں اور کتا بو ں میں موجود نہیں ہو تے)اور سطوری نکتوں کو بیان فرماتے۔ہر کو ئی آپؒ سے مستفید ہو تا رہا ۔تدریسی اوقات کی پابندی آپؒ کو طرئہ امتیازتھا۔بندہ نے جب ۱۹۹۶ء کو جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں داخلہ لیا