ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
دی، جن میں سے بعض کتابیں منصہ شہود پر آچکی ہیں اور جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مؤقر رسالہ الحق اور نوائے حق ودیگر رسائل میں بھی مختلف موضوعات پر مضامین شائع ہو چکے ہیں ۔آپؒ کی ان تمام کاوشوں نے عوام وخواص اور علمی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی ۔علمی ذوق کے علاوہ آپ اپنے والد ماجد حضرت صدر صاحب ؒ کی طرح شعروشاعری کیساتھ بھی عشق کی حد تک شغف رکھتے تھے۔حضرت صدرصاحبؒ بھی شعر وشاعری کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے ۔آپؒ نے زمانہ طالبعلمی میں عربی اور فارسی زبان میں کئی عمدہ قصائد اور مراثی لکھے تھے اور حضر ت فانیؒ صاحب بھی عربی،فارسی،اردو اور پشتو چاروں زبانوں کے مایہ ناز شاعر تھے،جس کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ہرکمالے راز والے: مگرہر کمالے را زوالے ، اور بنصِ قرآن کریم کل من علیہا فان (الاٰیۃ) زمین پر بسنے والی ہرچیز کو فنا ہونا ہے۔ موت ایک حقیقت ہے ،جس کے سامنے عالم ،جاہل،جوان ،بوڑھا ،مرد اور عورت ،صحیح وسقیم سب برابر ہیں اور ہر ایک کے جانے کا وقت مقرر ہے اور جب وہ گھڑی آجاتی ہے تولایستأخرون ساعۃً ولا یستقدمون…(الایۃ)تو وہ آنکھ جھپکنے بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی ۔مگربعض حضرات کا دنیا سے چلے جانا دل میں گہرا نقش چھوڑ جاتے ہیں …حضرت فانی صاحبؒ بھی ان شخصیات میں ہیں جن کی یادیں ابد تک زندہ رہیگی۔آپؒ اتنی وسعت علمی کے باوجود سادگی ،عاجزی اور انکساری کا نمونہ تھے۔جامعہ میں ۳۵ سالہ تدریسی دور میں اسباق کی پابندی مثالی رہی،گھنٹے میں بروقت جانا آپؒ کاایک وطیرہ تھا،اپنے اساتذہ اور اکابرین کے انتہائی باادب رہے ہیں۔چہرے پر ہر وقت بشاشت اور مسکراہٹ رہتی تھی ۔چونکہ آپؒ طویل عرصہ سے ذیابیطیس کے مریض تھے اور کافی عرصہ علالت میں گزری مگر انہوں نے کبھی بھی کوئی شکوہ یا شکایت نہیں کی ۔ساری عمر صبر وشکر کیساتھ گزاری اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کیا ۔مجھ ناچیز کیساتھ عشق کی حد تک تعلق تھااور میں بھی فانی صاحبؒ کو ایک مخلص دوست کی طرح دیکھتا تھا۔اللھم اغفرلہ وارحمہ واکرم نزلہ ونورقبرہ ووسع مدخلہ ولاتحرمنا اجرہ بعدہ وادخلہ الجنۃ مع الابرار۔اٰمین ٭ ٭ ٭