ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
؎ ہزار پھولوں سے آباد ، باغِ ہستی ہے اجل کی آنکھ ، فقط ایک کو ترستی ہے ہائے صیّا دِ اجل! تو جانتا ہے کہ تو نے کیسا سائبانِ رحمت چھین لیا ہے؟ کہ جس طرف بھی دیکھتا ہوں، آہ وبکا سن رہا ہوں، او رعوام کا نالہ ونوحہ یوم محشر کا سماں پیش کررہاہے ۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ آسمان رورہا ہے ۔ زمین آنسو بہا رہی ہے۔ چرند وپرند گریہ کناں ہیں ۔ بلکہ دریاکی مچھلیاں اور زمین کی چیونٹیاں تک ماتم کررہی ہیں ۔ ؎یبکیک السّمائُ و نیراھا وھذی الارض ھا مدۃٌ تمیل یبکیک البحارُ و ماحوتُھا وتبکیک الحزونۃُ والسَّھول اور … چھوڑ کر دنیا ’’فانی‘‘ چل دیئے زیر دامانِ الٰہ العالمین میں وہ الفاظ کہاں سے لاؤں جو کبھی کم نہ ہو نے والے غم کا اظہار کرسکیں ؟ ؎ بکت عینی وزاد بی العویلٗ وھل بدموعھا یشفی العلیلٗ میں کوئی اکیلا اس غم میں مبتلا نہیں، بلکہ ہر کوئی چشم اشکبار ودامنِ ترہے ؎ حالِ من درہجر کم ترازیعقوب نسیت اوپسرگم کردہ بودومن پدر گم کردہ ایم کسی خاندان کا بزرگ رخصت ہوتاہے ،تو لوگ پسماندگان سے تعزیت کرکے ان کا غم ھلکا کردیتے ہیں، لیکن جب ایک عظیم ہستی دارفانی سے داربقا کی طرف رحلت فرماجائے ۔ جس کے روحانی فرزند ہرخاندان میںکثیر تعداد میں موجود ہوں ،او رجس عالم کی موت حقیقت میں عالَم کی موت ہو ، ہر مسلمان اپنے کو یتیم سمجھنے لگے، اور گھر گھر اس کا ماتم ہونے لگے، تو کس کس کے پاس تعزیت کے لئے جائیں ؟ پس یہی مناسب ہے کہ سب مل کر چپکے چپکے روئیں، اور تلاوت قرآن مجید کرتے رہے ان کی روحِ پاک کو ایصال ثواب کرکے فیض حاصل کرتے رہے۔ خودمحترم استاد اپنی شعری زبان میں فرمارہے ہیں۔ ؎ دومرھ حق خود ’’فانی‘‘ درباندے شتہ دے حٗو گلونہ ئی پہ مزار اوغوَڑَوَھ جب کبھی بندہ راقم پریشان وافسردہ ہوکے استادمحترم کے پاس جاتا، تو ساری پریشانیاں ختم ہو جاتیں۔ بہرحال خوشی ہو یا غم ، حضرت استادمحترم سے ملتے ،کیونکہ وہ خوشی کو دوبالا اور غم کے لئے زوداثر مرہم ، ہم دست کردیتے ۔ بعض