ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
انوار الحق صاحب‘ مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب اور دیگر کئی علماء مدعو تھے۔ وہاں جب مجمع پر نظر ڈالی تو مقررین سامعین کی نسبت زیادہ معلوم ہوئے۔ چنانچہ اس مسجد کاامام جو ہمارے دارالعلوم کے فاضل تھے کو میں نے جھڑکا اور کہاکہ خدا کے بندے یہ تو ان مشائخ کی بے قدری ہے۔ آپ کو پہلے ان مشائخ کا بلند علمی مقام جاننا چاہیے اورپھر اس کے مطابق ان کودعوت دینی چاہیے: قدر رز زرگر شناسد قدر جوہر جوہری قدر گل بلبل شناسد قدر دلدل شاہ علی فانی صاحب کی زندگی کے کس کس پہلو پر تبصرہ کروں۔ان کی زندگی کا ہرپہلو ہم جیسے طالب علموں کیلئے قابل تقلید نمونہ ہے۔ آج ہم زمانہ شباب میں اپنے آپ کو ہر میدان میں ماہر سمجھتے ہیں اور کسی قسم کی اصلاح سے اپنے آپ کومستغنی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ فانی صاحب تو بڑھاپے میں بھی اپنے آپ کو قابل اصلاح سمجھتے تھے۔ موصوف اپنی کتابوں اور اپنے اشعار کی تصحیح اپنے اساتذہ اورمشائخ سے کرواتے تھے۔ایک دفعہ فرمایا کہ ’’فارسی اشعار کے مجموعے کا مسودہ ہاتھ میں لیکر اصلاح کی خاطر شیخ الحدیث مولانا شیر علی شاہ صاحب کے ہاں روانہ ہوا۔ اس وقت شیخ صاحب دارالعلوم سے جارہے تھے۔ میں بھی ان کیساتھ روانہ ہوا۔راستے میں میرے اور شیخ صاحب کے درمیان فارسی میں بیت بازی شروع ہوئی۔ تمام راستے پر بیت بازی رہی۔ وہاں بیٹھ کر پھر وہی سلسلہ چلتا رہا۔ تقریباً گھنٹوں تک جانبین سے اشعار کا تبادلہ ہوتا رہا۔ آخر میں شیخ صاحب نے داد دی اور فارسی اشعار کا مسودہ دیکھ کر اس کی اصلاح کی اورڈھیروں دعائیں دی۔‘‘ اسکے بعد فانی صاحب نے فرمایا : ’’ بڑوں کے دامن کو کبھی نہیں چھوڑنا۔اگر کسی نے اپنے اکابر واسلاف کے دامن چھوڑے تووہ برباد ہوگا، چاہے وہ کتنا ذہین اور قابل کیوں نہ ہو‘‘ مختصر یہ کہ فانی صاحب کے علمی وعملی کارناموں کے حوالے سے کئی یاداشتیں اور کئی علمی محافل ومجالس کی روداد ذہن میں گردش کررہ ہے۔ لیکن خوف طوالت کی وجہ سے ان چندباتوں پر اکتفا کرکے مضمون کا خاتمہ ان الفاظ سے کرتا ہوں جو رسول اللہ ا نے اپنے لخت جگر ابراہیم ؑ کی وفات پر کہے تھے۔دونوں میں مناسبت یہ ہے کہ ابراہیم جو آپؐ کے فرزند تھے اورفرزند تووارث ہوتا ہے اور ابراہیم فانی صاحب تو عالم تھے اورعلماء آپ اکے ارشاد کے مطابق آپؐ کے وارث ہیں۔تشبیہ کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دونوں ہم نام ہیں۔اس لئے ابراہیم فانی صاحب کی وفات پر تعزیت نبوی ؐ کے ان زرین الفاظ سے ان کی اولاد‘ احباب ‘تلامذہ اور متعلقین کو تسلی دیتا ہوں جو آپؐ نے اپنے فرزند ابراہیم کے غم فراق پر کہے تھے۔ ’’آنکھ اشکبار اوردل غمزدہ ہے لیکن ہم کو زبان سے وہی کہنا ہے جس سے ہمارا مالک اورپروردگار راضی ہو۔اے ابراہیم ! ہم تیری جدائی سے یقینا غمگین ہیں‘‘ (بخاری کتاب الجنائز:۱۳۵۳) چاروں طرف فضاء میں اداسی بکھر گئی تم کیا گئے کہ رونق شام و سحر گئی