ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
واقعی آج فانی صاحب کے تذکرے چل رہے ہیں لیکن افسوس صد افسوس کہ فانی صاحب نہیں رہے۔ ان کی غزلیات ‘نظمیں اور نعتیں آج لوگ پڑھ رہے ہیں‘ لیکن خود شاعر مٹی تلے مدفون ہے۔
ع فانی بیچارہ اُف یہ کون زیرخاک ہے
فانی صاحب کی محافل ہلکی پھلکی مزاح سے کشت وزعفران بن جاتی۔ایک دفعہ دارالعلوم حقانیہ کے دفتر اہتمام میں مولانا سمیع الحق صاحب ‘ فانی صاحب اور دیگر کئی حضرات موجود تھے‘ بندہ بھی اس مجلس میں بطور خادم موجود تھا۔ مولانا سمیع الحق نے مجھے کہا کہ بیٹے آپ کے مضامین رسالوں میں آتے ہیں‘ میں دیکھتا ہوں‘ لیکن نام کے ساتھ حقانی لکھا کریں۔ اس وقت حقانی نیٹ ورک کا شوروغوغا میڈیا پر شروع تھا۔ فانی صاحب نے بطور مزاح کہا‘ حقانی لکھنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ نام کے ساتھ یہ لاحقہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں‘ جو ڈرتے نہیں۔ مولانا سمیع الحق نے ہنس کر فرمایا :کیا مطلب سعید الحق کو سناتے ہو۔ فانی صاحب نے مسکرا کرفرمایا ۔نہیں جی ویسے مثال دے رہا ہوں‘تمام مجلس اس بات پر ہنس پڑی۔
حضرت مولانا ابراہیم فانی صاحب جب کسی کو کوئی کتاب بطور ہدیہ دیتے تواس پر کچھ نہ کچھ لکھتے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق ؒجب کسی کو کتاب دیتے تو اس پر کچھ نہ کچھ لکھ دیتے۔ایک دفعہ فرمایا کہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کو اپنا اردو مجموعہ اشعار بطور ہدیہ دیا اوراس پر یہ شعر لکھ لیا۔
راہ الفت میں گو ہم پر بہت مشکل مقام آئے نہ ہم منزل سے باز آئے نہ ہم نے راستہ بدلا
فرمایا کہ جب شیخ الاسلام کی نظر اس شعر پر پڑی تو تمام مجمع کو سنایا ‘بہت خوش ہوئے اور مجھے داد دی ‘پھر فرمایا کتاب بطور ہدیہ دیتے وقت اس پرکچھ نہ کچھ لکھنا اچھی عادت ہے۔یہ ایک یاداشت ہوتی ہے جو مرنے کے بعد بھی انسان کی یاد تازہ کردیتی ہے۔
تدوم الخط فی القرطاس دھراً وکاتبہ رمیم فی التراب
فانی صاحب دارالعلوم حقانیہ کے اساتذہ اور شیوخ سمیت دیگر اہل علم کے قدردان تھے‘ ایک دفعہ ایک علمی نشست میں راقم کو فرمایا کہ آج کل ہمارے فضلاء اپنے شیوخ کی بے قدری کرتے ہیں‘ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ دینی مدارس کے طلبہ اورپنے شیوخ کی بے قدری…؟ پھر فرمایا ۔بے قدری کا مطلب یہ نہیں کہ گالیاں دیتے ہیں بلکہ یہ بھی بے قدری ہے کہ مختلف پروگراموں ‘ جلسوں اور ختم قرآن کے سلسلے میں منعقد تقریبوں میں ان شیوخ کو بلواتے ہیں۔ جب یہ حضرات وہاں تشریف لے جاتے ہیں‘ تو وہاں پر مسجد میں دس پندرہ بچے ان کے سامنے بٹھاتے ہیں اور اب تو نورانی قاعدے کے ختم کا بھی رواج بن گیا ہے۔ کیا یہ بے قدری نہیں تو او رکیا ہے۔ مردان میں ایک جگہ ہمیں بلوایا گیا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا شیرعلی شاہ صاحب ‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا