ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
اور مفسر قرآن تھے ۔دارالعلوم حقانیہ میں طویل عرصے تک مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ آپ دارالعلوم دیوبند سے فارغ تھے ۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے شاگرد رشید تھے۔ علاقہ کے علماء میں میرے نانا رئیس الاتقیاء شیخ الحدیث مولانا عبدالرازق ؒ کے خصوصی شاگرد تھے ۔ دارالعلوم دیوبند میں اپنے محبوب استاد جامع العقول والمنقول ، حضرت مولانا ابراہیم بلیاوی ؒسے حددرجہ محبت اور عقیدت رکھتے اسی عقیدت اور محبت کی خاطر آپ نے اپنے بیٹے کانام محمد ابراہیم رکھا ،جو آپ کی حسنِ تربیت کی بدولت آگے چل کر مولانا محمد ابراہیم فانی بن گئے، اور اسی نام کی لاج رکھتے ہوئے آپ نے آخری سانس تک علومِ نبوی ؐ کی آبیاری کی، اور گویا اسی طرح آپ کے والد مکرم کی خواہش کی تکمیل ہوئی ۔
آخری دنوں کی بات ہے کہ’’ تذکرہ شخین‘‘ کے حوالے سے میں نے اکوڑہ خٹک آنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ایک لفظ ’’اخوین‘‘ جو حضرت شیخین کے بارے میں ان کے محبوب استاد مولانا سمندر خانؒ ارشادکرتے تھے اسی لفظ کے بارے میں کوئی جامع او رادیبانہ معنی کی درخواست کی ، تو ملاقات کے دوران فرمایا کہ اس کے لفظ بارے میں’’ جڑواں موتی‘‘ بہت موزوں لگتاہے۔چنانچہ ہم نے کتاب میں ان ہی کی رائے کے مطابق یہی لفظ استعمال کیا ۔آپ نے کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں ہماری بھر پور رہنمائی فرمائی ۔ باوجود ضعف ، تکلیف اور بیماری کے ’’الحق‘‘ کے دفتر میں ہمارے انتظار میںتشریف فرمارہے تھے، اور دیر تک کتاب کے بارے میں ہماری رہنمائی فرماتے رہے … اللہ اللہ… اب وہ محفلیں اور محبتیں کہاں سے لاؤں ؎
’’ وہ کوہ کن کی بات گئی کوہ کن کے ساتھ ‘‘
آپ کی وفات کا سن کر دیرتک یقین نہیں آرہا تھا۔ لیکن آخر ہمت کرکے بوجھل اور غمزدہ دل کے ساتھ آخری دیدار اور جنازہ کے لئے اکوڑہ خٹک کی راہ لی اور ان کے تاریخی جنازے میں شرکت کی سعادت حاصل کی ۔
استاد کا مقام بہت اونچا ہوتا ہے۔ حضرت استاد ؒ نے جس محبت سے ہمیں پڑھایا تھا، ہماری تربیت اور رہنمائی فرمائی تھی، اس کے ناطے ان کے ہمارے اوپر پہاڑ جیسے حقوق ہیں۔ خدا ہمارے ناتواں کاندھوں کو طاقت بخشے کہ ہم بعدازوفات ان کے حقِ استادی اداکرنے کے اہل ہوسکے ۔ میں تمام اہل قلم حضرات اور علماء سے درخواست کرتاہوں کہ جس طرح حضرت استاد’’ علماء وزعمائ‘‘ کی رحلت اور جدائی پر نظم اور نثر میں قلم اٹھاتے ، آج یہ ان کا حق بنتا ہے کہ ان کی حیات کے مختلف گوشوں اور دینی خدمات پر کچھ تحریرکیا جائے۔
اللہ تعالیٰ حضرت استاد کو جوارِرحمت میں جگہ عطافرمائے۔آمین
اور مضمون کا اختتام اس شعر کے ساتھ کرناچاہوں گا ؎
بعد مرنے کے وہ بولے میرے رقیبوں سے خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں