میں ان کا احترام، ان کے ساتھ حسن سلوک، جائز کاموں میں ان کے حکم میں اطاعت، ان کی خدمت، ان کی ضروریات کا خیال، ان سے محبت اور ان کی وفات کے بعد ان کے لئے دعائے مغفرت، ان کی جائز وصیت کی تنفیذ، ان کی قبر کی زیارت، ان کے اہل تعلق احباب سے حسن سلوک، ان کے لئے ایصالِ ثواب، ان کی طرف سے صدقہ وغیرہ شامل ہیں ۔
(۲) اولاد کے حقوق:- والدین کے ذمہ اولاد کے بہت سے حقوق ہیں ، ان میں اولاد کی حفاظت، پرورش، محبت وشفقت، خبرگیری، ان کے درمیان تفریق نہ کرنا؛ بلکہ مساوات وبرابری رکھنا، رزق حلال سے ان کی پرورش، ان کو اچھی تعلیم دلانا، ان کی اخلاقی تربیت، ان کا اچھا نام رکھنا، ان میں حلال وحرام کا شعور پیدا کرنا، ان کو عبادات کا عادی بنانا، ان کے لئے اللہ سے خیر کی دعا کرنا، بالغ ہونے کے بعد ان کا مناسب رشتہ کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔
(۳) زوجین کے حقوق:- بیوی کے ذمے شوہر کے بنیادی حقوق یہ ہیں : (۱) شوہر کی اطاعت (۲) شوہر کو خوش رکھنے کی فکر کرنا (۳) شوہر کی قدر دانی، احسان مندی اور شکر گذاری (۴) شوہر کی خدمت (۵) شوہر کے گھر اور مال کی حفاظت (۶) اپنی آبرو کی حفاظت (۷) شوہر سے محبت (۸) سلیقہ مندی، صفائی اور شوہر کے لئے زیب وزینت اختیار کرنا۔
شوہر کے ذمے بیوی کے بنیادی حقوق یہ ہیں : (۱) حسن سلوک (اچھا برتاؤ) (۲) کوتاہیوں سے درگذر (۳) دل جوئی اور محبت (۴) تعلیم وتربیت (۵) فراخی کے ساتھ بیوی کے (نفقہ) خرچ کا انتظام(۶) ایک سے زائد بیویاں ہوں تو عدل وانصاف اور مساوات (ـ۷) اچھی ہیئت اختیار کرنا (۸) بیوی کا حق مہر ادا کرنا۔
(۴) رشتہ داروں کے حقوق:- ان کا خلاصہ یہ ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے، ان کی خبرگیری کی جائے، اور ان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا جائے، شریعت میں اسے ’’صلہ رحمی‘‘ کہا جاتا ہے، اور اس عمل کو رزق میں وسعت اور عمر میں برکت کا باعث بتایا گیا ہے۔