مکان۔
ظرفِ زمان وہ ظرف ہے جس میں وقت کے معنی پائے جائیں۔ جیسے: یومٌ، شہرٌ۔
ظرفِ مکان وہ ظرف ہے جس میں جگہ کے معنی پائے جائیں۔ جیسے: خلف، أمام۔ پھر ہر ایک کی دو دو قسمیں ہیں: مبہم اور محدود۔
ظرف مبہم وہ ظرف ہے جس کی کوئی حد متعین نہ ہو۔ جیسے: دَہْرٌ (زمانہ)۔
ظرف محدود وہ ظرف ہے جس کی حد متعین ہو۔ جیسے: شہرٌ (مہینہ)۔
پس ظرف کی کل چار قسمیں ہوئیں:
۱۔ ظرفِ زماں مبہم: جیسے: دَہْرٌ (زمانہ)، حینٌ (وقت)۔
۲۔ ظرفِ زماں محدود۔ جیسے: یَوْمٌ، لَیْلٌ، شَہْرٌ، سَنَۃٌ (سال) ۔
۳۔ ظرفِ مکاں مبہم۔ جیسے: أَمَامَ، خَلْفَ، یَمِیْن، شِمالٌ، فَوْقَ، تَحْتَ۔
۴۔ ظرفِ مکاں محدود۔ جیسے: دارٌ، بیتٌ، مسجدٌ۔
قاعدہ: ظرف کی اوّل تین قسمیں في کی تقدیر سے منصوب ہوتی ہیں۔ جیسے: صُمْتُ دَہْراً/ شہرًا أي: فِيْ دَہْرٍ/ شَہْرٍ، جَلَسْتُ یَمِیْنَکَ أيْ: فِيْ یَمِیْنِکَ۔
قاعدہ: ظرف کی چوتھی قسم میں في لفظوں میں ذکر کرنا ضروری ہے۔ جیسے: صلّیتُ في المسجد۔ مگر فعل دَخَلَ کے بعد في نہیں آتا۔ جیسے: دخلت الدار۔
مشقی سوالات
۱۔ مفعول مطلق کی تعریف مع مثال بیان کرو۔