ہونے کی حالت میں)۔ اس میں فَاضِلاً اگر ذو الحال سے مؤخر ہوگا تو ممکن ہے کوئی اس کو صفت بنادے اور یہ ترجمہ کرے کہ میں نے فاضل آدمی سے ملاقات کی۔
قاعدہ: حال منصوب ہوتا ہے اور اس کا عامل فعل یا شبہ فعل یا معنی فعل1 ہوتے ہیں۔ جیسے: جائَ زَیْدٌ رَاکِبًا، زَیْدٌ فِي الدَّارِ قَائِمًا، ہٰذَا زَیْدٌ نَائِمًا۔2
قاعدہ: جب حال معرفہ ہو تو اس کو بتاویل نکرہ کر لیا جاتا ہے۔ جیسے: ضَرَبْتُہٗ وَحْدِي (میں نے اس کو تنہا مارا)۔ اس میں وَحْدِيْ مرکبِ اضافی حال ہے جو مُنْفَرِدًا کے معنی میں ہے۔
قاعدہ: حال کبھی جملہ اسمیہ اور کبھی جملہ فعلیہ بھی ہوتا ہے۔ جیسے: لَقِیْتُ حَمِیْدًا وہو جَالِسٌ، جَائَ رَجُلٌ یَسْعیٰ۔1 اور اس صورت میں ذو الحال سے ربط پیدا کرنے کے لیے کبھی و حالیہ، کبھی ذو الحال کی طرف لوٹنے والی ضمیر اور کبھی دونوں کو لاتے ہیں۔
قاعدہ: قرینہ پایا جائے تو حال کے عامل کو حذف کرنا جائز ہے۔جیسے: سفر میں جانے والے سے رَاشِدًا 2 مَہْدِیًّا یا سَالِمًا غَانِمًا کہنا۔ یہاں عامل سِرْ محذوف ہے اور ذو الحال ضمیر أنتَ مستتر ہے۔
الدرسُ الثَّامنُ والثلاثون
تمیز کا بیان
تمیز وہ اسم ہے جو کسی مبہم چیز کی پوشیدگی کو دور کرے۔ جیسے: أَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا میں کَوْکَبًا تمیز ہے جس نے أَحَدَ عَشَرَ کے ابہام کو دور کیا ہے۔