ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
عشاء کے وقت سناؤں گا۔میراخیال تھاکہ حالت سنبھل جائے گی۔ حالانکہ یہ فانی صاحب کی حیاتِ مستعار کی59(انسٹھ)بہاروں کے آخری لمحات اورعلمی وادبی گلستان وبوستان کے اُجڑنے کی ابتداء تھی ۔وہی ہسپتال جہاں باذوق علمائ،فضلاء اورطلباء کیساتھ روحانی اورنورانی علمی وادبی محفلیں قائم رہتی تھیں، یکدم ماند پڑ گئیں۔ ڈاکٹروں نے پوری تندہی اورعقیدت کے ساتھ علاج کیا۔پیرکے دن ڈائی لائسززکے دوران مجھے جناب مولاناراشد الحق صاحب نے فرمایاکہ جنا ب سرجن ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب(ڈائریکٹر کڈنی سنٹر)کہہ رہے ہیں کہ بس اب دعاکرو۔چنانچہ منگل کی رات کوعشاء کی نماز کے بعد فانی صاحب کے بیڈ کے قریب کافی دیرتک بیٹھارہا۔آپ کی حالت انتہائی سیریس تھی۔ میںنے آپ کے خادم طالبعلم محمد برہان نعمانی کواپناموبائل نمبر دیا اورکہاکہ جوکچھ بھی ہومجھے فوراًاطلاع کردینا۔گھرآکر افسوس اورمایوسی کے عالم میں سوگیا۔ رات کے تین بجے موبائل فون گھنٹی کی بجی ،فون آن کیاتوطالب علم نے یہ المناک خبرسنائی کہ فانی صاحب انتقال کرگئے ۔ فوراًICU پہنچا ان کودیکھ کربے اختیا روپڑا۔خیال آیا کہ جناب مولاناراشد الحق صاحب کواطلاع کردوں کیونکہ فانی صاحب اورراشد الحق صاحب کا آپس میں محبت اورعقیدت کاگہراتعلق ہے۔ راشد الحق صاحب اکوڑہ خٹک سے بارباربیمار پرسی ،تیمارداری اورنگرانی کے لیے تشریف لاتے تھے لیکن میں نے راشدا لحق صاحب کوفون نہیں کیاسوچاکہ اس وقت ان کوفون کرکے کیوں پریشان کروں۔ لہذا خود ہی تمام امورنمٹانے کی ٹھان لی ۔فانی صاحب کے بیٹے محمودذکی کوفون کیا،جناب محمود زکی اپنی والدہ کے ساتھ حیات آباد میں اپنے خالو کے گھر مقیم تھے۔دن بھرابوکی خدمت کے بعد رات تھوڑی دیرآرام کے لیے خالوکے گھرچلے جاتے اورپھر وارڈ میں طلبا کرام فانی صاحب کی خدمت اورنگرانی کرتے ۔جناب فانی صاحب کی اہلیہ بھی دن میں دومرتبہ ICUتشریف لاتیں۔ کافی دیر تک فانی صاحب کی خدمت میں مصروف رہتیں۔مثلاًصفائی ،کپڑے بدلنا وغیرہ یہ آپ کاروزانہ کامعمول تھا۔ محمود زکی کومیں نے انتقال کی اطلاع نہیں دی میں نے کہاآپ آجائیں ۔فانی صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔چنانچہ وہ اپنے خالو مولانامقبول صاحب کے ساتھ فوراپہنچ گئے ۔اپنے عظیم باپ کودیکھتے ہی حالت غیر ہوگئی۔ میں نے خوب دلاسہ اورپُرسہ دیا۔میں نے کہا کہ فانی صاحب توفانی ہوگئے لیکن باقی (اللہ )موجود ہیں ،وہ تمہارا ذمہ دارہے۔ جب اس کی حالت ذرا سنبھل گئی تومیں نے کہا اب والدہ صاحبہ کو فون کرواوربتاؤکہ فانی صاحب ٹھیک ہیں، کیونکہ فی الحال ان کوبھی پریشان نہیں کرناچاہیے چنانچہ میں اورقاری مقبول صاحب موٹرسائکل پرسوارہوکر گئے اورایمبولنس کابندوبست کیا۔ ایمبولنس کڈنی سنٹر آئی اورجناب فانی صاحب کاجسدِ خاکی احترام اورعقیدت کے ساتھ اس میں رکھااورساتھ ان کے بیٹے محمود زکی کوبٹھایااوران سے کہاکہ اپنے خالو کے گھرجائیں اوروہاں سے مستورات کوساتھ لے کرحقانیہ پہنچ جائیں۔چنانچہ صبح ہوتے ہی آپ کے انتقال کے میسجز(SMS) ہرطرف پھیلناشروع ہوگئے ۔آپ