ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک صرف پاکستان ہی نہیں عالم اسلام میں ایک ممتاز علمی‘ دینی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان دینی تعلیم گاہوں میں اس کا ممتاز مقام ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں طالب علم زیرتعلیم رہتے ہیں۔ایک ایک کلاس اور درجہ میں سینکڑوں کی تعداد میں طلباء ہوتے ہیں او رجہاں فائنل ایئر (دورئہ حدیث شریف) میں ہزاروں تک تعداد پہنچتی ہے۔دیگر مدارس کی نسبت سے دارالعلوم حقانیہ کا ایک خاص اور امتیازی ماحول ہے یہاں اساتذہ کرام اور طلباء کا آداب واحترامات کے ساتھ ساتھ باہمی محبت‘ خلوص اور برادرانہ تعلق کا جو مظاہرہ کیا جاتا ہے‘ وہ مثالی ہے اور یہ وجہ ہے کہ ایک طالب علم جب دارالعلوم حقانیہ کے اس ماحول سے مانوس ہوجاتا ہے تو اس کا جی پھر کہیں بھی نہیں لگتا۔دارالعلوم حقانیہ کے اسی ماحول کی وجہ سے اس میں ایک کشش اور جاذبیت پائی جاتی ہے جو طلباء کواپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس لئے جب راقم الحروف نے دسمبر ۱۹۷۰ء مطابق شوال ۱۳۹۰ھ میں یہاں داخلہ لیا توپھر یہیں کے ہوکر رہ گیااوراگست ۱۹۷۶ء مطابق شعبان ۱۳۹۶ھ میں یہیں سے سند فراغت حاصل کی مگردور طالب علمی کے اختتام کے بعدایک علمی ادارے میں تدریس کے عمل کا آغاز تو کیا مگر دارالعلوم حقانیہ اوراس کے اساتذہ کرام اور طلباء سے تعلق میں فرق نہ آیا اور جب بھی تعطیل ہوتی دارالعلوم میں ضرورحاضری دیتا اوراپنے اساتذہ کرام کی زیارت سے دل کو فرحت وسرور اورآنکھوں کی ٹھنڈک حاصل کرتا رہتا تھا۔اس دور کے طلباء میں مولانا محمد ابراہیم فانی بھی تھے۔ دونوں کا داخلہ دارالعلوم حقانیہ میں ایک سال ہواتھا۔ ان کا ابتدائی درجہ تھا جبکہ راقم الحروف پانچویں درجہ کا طالب علم تھا۔ وہ دارالعلوم کے صدرالمدرسین کے صاحبزادے ہونے کی وجہ سے تمام طلباء کی نگاہوں کا مرکز ہوا کرتاتھا۔ اورہر طالب علم ان کوادب و احترام دیتا تھا۔ دوسری طرف وہ ذاتی خوبیوں سے بھی مالا مال تھا۔ ان کوان کی ذاتی خوبیوں ‘ذہانت وقابلیت ‘بے مثال حافظہ ‘ شعر وادب سے والہانہ وابستگی نے اساتذہ اور طلبا میں ہردل عزیز بنادیاتھا۔ وہ لطائف بھی سناتے تھے اور نکتہ سے نکتہ پیدا کرنے کا ملکہ بھی رکھتے تھے۔قوت بیان بھی خوب تھا اوران تمام نسبتوں اور صلاحیتیوں کے باوجود کسرنفسی ‘عاجزی اورسادگی ان کی طبیعت ثانیہ تھی۔ کبھی یہ جتانے کی کوشش نہیں کرتے تھے کہ وہ استاذ اوروہ بھی صدرالمدرسین کا فرزند ہے ۔ ان کی تربیت ہی اس انداز سے ہوئی تھی کہ کبھی اپنے آپ کو امتیازی حیثیت دینا گوارا نہیں کرتے تھے۔ ملنسار‘ ہنس مکھ‘ ہروقت خندہ پیشانی سے ملتے اور چلتے چلتے بھی کوئی لطیفہ ‘ شعر یا ادبی چٹکلہ ضرور سناتے اور آگے بڑھ جاتے۔ سیاست میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ راقم الحروف دوبار ان کو ترغیب دے کر جمعیۃ طلباء اسلام کے اجلاس میں پشاور لے کر گیا تھا مگر ان کواس طرف میلان ہی نہ ہوسکا۔ ۱۹۷۴ء میں جب ملک بھر میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی اور عوامی رابطہ کے لئے دارالعلوم حقانیہ کے طلباء کو دیہاتوں میں بھیجنے کا فیصلہ ہوا اور