ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
نہیں جائے گا اوران فضلاء وفاضلات کی ایک ایک نیکی اور ایک ایک حرف باچا صاحب کے درجات بڑھا نہیں رہے ہوں گے۔تو حضرت باچا صاحب ؒ فارسی کے اس شعر کے ترجمان تھے کہ: دلا تو رسم تعلق زمرغ آبی جو کہ گرچہ غرقِ بدریا است خشک پر برخاست اور اردو کے اس شعر کی زندہ مثال اور مصداق تھے کہ دنیا میں ہوں دنیا کاطلبگار نہیں ہوں ‘ بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں۔ حضرت باچا صاحب ؒ کے وصال کے دوسرے اور تیسرے دن وہاں رہنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ‘ بہت احباب آتے رہتے ،جن میں علماء کرام ‘ مشائخ عظام‘ ہرطبقہ عام و خاص کی زبان پر ایک بات قدرے مشترک تھی کہ باچا صاحب ؒ کی جتنی محبت میرے ساتھ تھی کسی دوسرے سے نہیں‘ جتنی شفقت میرے ساتھ تھی شاید کسی کے ساتھ ہو۔حضور ا کے متعلق صحابہ کرام ؓ کی یہی رائے ہوتی تھی ہرصحابی ؓ کا یہ دعویٰ ہوتا تھا کہ حضور اقدس اکی جتنی محبت ‘ مہربانی اور شفقت میرے ساتھ تھی دوسرے کے ساتھ نہیں احادیث کی کتابوں میں روایات صحابہ ؓ محفوظ ہیں۔ سخاوت: ’’اَلیَدُ العلیا خیر من ید السفلیٰ‘‘ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔اوپر والے ہاتھ سے دینے والے کاہاتھ ہے۔ حضوراکرم ا نے کتنی عجیب تلقین فرمائی ہے کہ تم دینے والے بنو۔ حضرت باچا صاحب ؒ ہر خاص و عام چھوٹے بڑے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ اوپررکھتے ۔کیا شان تھی ‘ حضرت باچا صاحب ؒ کی کہ حضوراکرم ا کی ایک ایک حدیث پر کیسے خوش اسلوبی سے عمل پیرا ہوتے تھے۔ ان تمام محاسن کے بدلے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کتنی شان ‘ کتنی عزت عطاء فرمائی اور آخرت کے درجات تو حسب حکم الہٰی اوررحمۃ اللعالمین ا کی تعلیمات کے مطابق ان کوملے ہوں گے۔ اوراُن میں برابر اضافہ جاری ہوگا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم کوان کے نقش قدم پر چلائے کہ ان کی زندگی اور موت قابل رشک ہے ‘ ان کے نماز جنازہ میں عینی شاہدین کے بقول سارا علاقہ امڈ آیا گویا کہ انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ پورے علاقہ میں اتنا تاریخ ساز جنازہ نہیں دیکھا گیا‘ کوئی کسی بادشاہ ‘ وزیر‘ مشیر‘ نواب‘ جاگیردار‘ سرمایہ دار‘ کوٹھیوں‘ بنگلوں والوں کا اتنا بڑا جنازہ بتا سکتا ہے؟ باچا صاحب ؒ صالحین ربانیین کے سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی تھیے۔ مرنے کے وقت ملائکہ کے ذریعہ صالحین کو بشارت دی جاتی ہے اور وہ عین نزع کے وقت پکاراٹھتے ہیں کہ ’’یالیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی وجعلنی من المکرمین‘‘ یقینا باچا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آخری دم یہی آیت تلاوت فرمائی ہوگی۔ اور صالحین مسبوقین کی معیت میں جنت کے اعلیٰ مقامات میں پہنچے ہوں گے۔ فیرحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃً