ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
کا شکار ہے (اعاذنا اللہ مع) الحمدللہ ہمارے اکابرین میں اخلاص کا یہ عالم تھا کہ اس کی مثال نہیںملتی۔ حضرت مولانا محمد ابراہیم فانی رحمۃ اللہ میں جہاں صفت اخلاص کمال درجہ کی تھی، وہیں قدرت نے آپؒ کو عاجزی سے بھی خوب نوازا ہواتھا۔ بندہ ناچیز کے ساتھ حضرت دادا جان ؒ کی نسبت کی وجہ سے بہت محبت فرماتے (اللہ تعالیٰ اس نسبت کوبالایمان اپنے فضل سے دونوں جہانوں میں سلامت رکھے۔آمین) جب بھی بات ہوتی تو فرماتے: میں تمہارے لئے دعا کرتا رہتا ہوں‘ تم میرے لئے دعا کیا کرو۔ ایک بار مجھے فرمایا میں نے آپ کے دادا جان حضرت خطیب اسلام ؒپر منظوم کلام لکھا ہے‘ اپنی کتاب میں اس کو شامل کررہا ہوں۔ تم مجھے ان کی زندگی کا مختصراً خاکہ لکھ کر بھیجو ‘تفصیل میں خود کرلوں گا۔ وہ ہمارے اکابر ؒ میں سے تھے اوران کے ساتھ مجھے بھی نشست و برخاست کا شرف حاصل ہے۔ فانی کا لاحقہ آپؒ کی عاجزی وفکر آخرت کی ایک بہترین مثال ہے۔ آپؒ کی ایک اور بات جس نے مجھے بہت متاثر کیا وہ عربی‘ فارسی‘ اردو اورپشتو ادب پر عبور تامہ کا ہونا ہے۔ آپؒ کا ان زُبانوں میں منظوم بہترین کلام ادبی تاریخ کے ماتھے کا وہ جھومر ہے جس کو خریدنے کیلئے خود تاریخ کو بھی ایک تاریخ کی ضرورت رہے گی۔ ادیب العصر‘ شیخ کامل اور محبوب سبحانی کہ ہم عصروں میں اب تک کوئی نہیں تیرا ثانی خدائے لم یزل نے تجھ کو بخشا کیف حسانی ؓ تھا تو اپنی مثال آپ اے میرے ابراہیم فانی ؒ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب سیدنا محمد رسول اللہ ا پر ان گنت درود وسلام نازل فرمائے اور وہ باقی اپنے بندے(مولانا) محمد ابراہیم فانی ؒ سمیت تمام اکابرین ؒ و جمیع مسلمانوں کی قبور پرکروڑہارحمتیںنازل فرماتے۔ آمین ثم آمین ٭ ٭ ٭ تلخی ء ساغر پہ تجھ کو ناز ہے پیر مغاں ہم بھی یاں پر تلخیء ایام لے کر آئے ہیں (فانیؔ)