ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
بہر سو رقص چشمِ حور شب جائیکہ من بودم پر بھی ایک غزل لکھی جس کے چند مصرعے نذرِقارئین ہیں ؎ بہر سو رقص چشمِ حور شب جائیکہ من بودم ہر اک وار ان کا تھا بھر پور شب جائیکہ من بودم نگاہِ ناز سے لبریز پیمانے پئے ہم نے رہی دنیائے دل مخمورِ شب جائیکہ من بودم تجلی ہی تجلی تھی خوشاوہ محفل ومنظر ترا جلوہ چراغِ طور شب جائیکہ من بودم رُخ زیبائے شمع پر فنا ہوتے تھے پروانے رہی بزم وفا معمورِ شب جائیکہ من بودم ہر اک محوتماشائے جمال یار تھا فانیؔ بنی محفل سراپا نور شب جائیکہ من بودم فانی ؔ کو حمد ، نعت ، غزل ، نظم ، قطعات ، مسدس غرض شاعری کے تمام اصنا ف پر مکمل عبور حاصل تھا ، ان کے کسی ایک غزل کوشروع کرو توآخر تک ہی پڑھتے جاؤ گے ان کا ایک ایک شعر منتخب شدہ ہوتاہے ۔ فانی ؔ صاحب ؒ کے اردو کلام کے مجموعہ نالۂ زار ہی سے یہ انتخاب کیا گیا ہے ۔عربی ، فارسی ، اور پشتوکے کلام پر اگر کوئی صاحب ِ ذوق کام کرے تو مفکراسلام مولاناسید ابوالحسن علی ندوی ؒ ،روائع اقبال(نقوش اقبال )کی طرح ’’نقوشِ فانیؔ‘‘لکھ سکتا ہے ۔ فانی صاحب ؒ کی شاعری ادب کا بہترین نمونہ ہے ۔ اپنی علمی ،ا دبی خدمات کی بدولت وہ رہتی دنیا تک لافانی ؔ کہلائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ فانی ؔصاحبؒ کی تمام علمی اور ادبی خدمات کو قبولیت اور مقبولیت سے نوازے اور فانی ؔ صاحب ؒ کے درجاتِ عالیہ کاسبب بنائیں ۔آمین فانی صاحب ؒ کے چند اشعارپر اپنے مضمون کااحتتام کرتاہوں ؎ ساقیا نظریں ملا میں پھر نہ شاید آ سکوں آج جی بھر کے پلا میں پھر نہ شاید آسکوں اس قدر محرومیاں اپنے مقدر میں رہیں کچھ نہیں ان سے گلہ میں پھر نہ شاید آسکوں آج وہ اپنی وفائیں یاد آتی ہیں مجھے کیا دیا ان کا صلہ میں پھر نہ شاید آسکوں اپنی وقعت کا تمہیں فانیؔ تو اندازہ ہوا اب نہ اتنا دل جلا میں پھر نہ شاید آسکوں ٭ ٭ ٭ نہیں ملتا کہیں اے جانِ فانیؔ یہ نسخہ ضبط کا لائوں کہاں سے (فانیؔ)