ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
فرمایاکہ ! آپکے مطالعہ کے لئے ایک نیا علمی ،ادبی ،سوانحی ساتھی تخلیق کیا ہے ۔ تو آپ نے اپنے استاد (مولانا سمیع الحق صاحب) پر ثابت کیا کہ! میں تو چلنے والاہوں لیکن ایک یادگار ’’داستان دلکشا درزمان ابتلائ‘‘ چھوڑ کر آپکی تربیت تصنیف پر آخری مہر لگاتا ہوں ۔ مزاج گرامی : آپکی طبیعت میں تحمل ، نرمی اور خوش اخلاقی کے اثرات موجود تھیں کسی سے ملنے پر دونوں ہاتھ ملا کر اسکی خیریت کے علاوہ گائوں اور والدین کے بارے میں بھی خیریت پوچھ لیتے ۔ بندہ کے ساتھ معمول یہ تھا کہ گائوں سے روانہ ہو کر راستے میں آپکو فون ضرور کرتا جب بھول جاتا تو پھر آپ گپ شپ میں شکوہ کرتے پھر واپسی میں بندہ آپ سے اجازت لیتا ۔ جب بھول جاتا تو فون پر الوداع کہتے۔ اکثر اوقات آپکے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں خوشی کی لہر تھی ۔خوش طبعی اور لطیفہ بازی کے دوران بندہ کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر تالی بجا لیتے اور ہنس کر ماحول کو سرور بخشتے۔ آپ کا آخری لطیفہ جو ڈاکٹر سید نے کڈنی سنٹر میں آپ کے پائوں پر پٹی باندھتے تو آپ نے فرمایا: ’’ ڈاکٹر صاحب! آپ نے تو بار بار میرے پائوں کی دستار بندی کی‘ آپ دارالعلوم میں داخلہ لیں کہ میں اس کے بدلے آپ کے سرکی دستاربندی کروں‘‘ مسکراہٹ کی لکیریں جس نے تصویروں کو دیں اس مصور کی جبیں پر ہر شکن مضروب ہے لیکن جب غضب و جلال میں آجاتے تو پھر کسی کو آپکے سامنے آنکھیں جھپکنے کی طاقت نہ رہتی اور یہ الفاظ پشتو میں استعمال کرتے ۔ پریگدہ سڑیہ زور ور ئیے بندہ جب کسی کے بارے میں لا پرواہی کا ذکر کرتے تو آپ فرماتے یاسڑیہ دومرہ غم ئے مہء کوہ جب بندہ سفر کیلئے گاڑی کا بندوبست کرنے پر ذرا ٹھہر جاتے تو آپ بار بار فون کرتے اور انتظار آپ پر بہت دشوار گزر جاتی ۔ تو اکثر میں دوڑتے ہوئے آپکے پاس کوئی تور یہ وغیرہ پیش کرلیتا تو آپ چشم پوشی فرماتے۔بندہ اگر آپکی عادات و مناقب لکھنے کی کوشش کرے تو صفحات تو کیا کتابیں تصنیف ہو سکتی ہیں لیکن بندہ کے قلم اور ہاتھ میں اتنی سکت نہیں کہ مزید لکھے اللہ آپ کو اعلیٰ جنتوں میں جگہ نصیب فرمائے اور سوگواران کو صبر دے۔ امین اللھم اغفرہ ورحمہ‘ وجعل الجنۃ مثواہ ٭ ٭ ٭