ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
¬امعہ داØ |
|
جانا مناسب نہیں مگر حدیث مبارک میں ارشاد ہے کہ بیمارپرسی کفواق الناقۃ ہونی چاہیے۔ بناء بریں آپ کی صحت کے لئے دعائیں کررہے ہیں۔چند طلبہ دیگر بھی موجود تھے‘ ان کی صحت و سلامتی کے لئے طویل دعائیں کرکے ان کے پیشانی کا بوسہ لے کر روانہ ہوئے۔ معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کے ساتھ آخری الوداعی ملاقات تھیرب العالمین جل جلالہ ان کی اہلیہ محترمہ اور صاحبزادگان اور صاحبزادیوں اوران کے بھائی محمد اسماعیل کو صبر جمیل واجرجزیل عطا فرمائے۔ ماشاء اللہ محترم فانی ؒنے اپنی حیات مستعار کے لیل ونہار کو علوم دینیہ کی اشاعت وترویج میں صرف کیا۔ شاہ منصور کے شیخ المفسرین شیخ القرآن مولانا عبدالہادی نوراللہ مرقدہ کے سوانح حیات اور اپنے والد بزرگوار شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحلیم رحمۃ اللہ علیہ کے سوانح حیات پر مفصل تالیفات لکھی ہیں۔ اور کافیہ ‘ حسامی‘پر جامع مانع شروح‘ اور حضرت مولانا سراج الاسلام سراج ؒ کے منظوم ترجمہ قصیدہ بردہ پر محققانہ ادیبانہ مقدمہ اوردیگر سینکڑوں قصائد ومراثی ‘ سوانح و تقریظات انکے علم وفضل کے ارفع مقام کے شواہد عدل ہیں۔ وہ پشتو ‘فارسی ‘ اردو‘ عربی کے قادرالکلام شاعر تھے۔ اس کیساتھ ساتھ سینکڑوں شعراء کرام کے اشعار وقصائد ان کو ازبر یاد تھے۔ تلک آثار نا تدل علینا فانظر وابعدنا إلی الآثار ان کے والد بزرگوار شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحلیم نوراللہ مرقدہ کبھی کبھی مجھ سے مرحوم فانی نوراللہ مرقدہ کے بارے میں پوچھتے تھے‘ میں ان کو ان کی علمی استعداد وقابلیت کی بشارت دیتا‘ بہت ہی خوش ہوجاتے اوران کی کامیابیوں کے لئے دعائیں دینے لگتے۔ میں ان چند سطور پر اکتفا کرتا ہوں۔ضعف ‘پیرانہ سالی کی وجہ سے مزید لکھنے کی طاقت نہیں ہے۔ ان کے علمی فضائل ومناقب آں محترم ہی سب سے بہتر لکھ سکتے ہیں کیونکہ آں محترم کے آغوش شفقت میں ان کی حیات طیبہ کے لیل و نہار گذرے ہیں۔ اسی طرح عزیزم راشد الحق صاحب اور خطیب اسلام حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب اپنے محبوب رفیق نوراللہ مرقدہ کے سوانح حیات کو جامع مانع انداز میں زیب قرطاس کرنے کا کماحقہ حق ادا کرسکتے ہیں۔ بارگاہ الہٰی میں دست بدعا ہوں کہ وہ محترم مولانا محمد ابراہیم فانی ؒ کی تربت کو اپنی بے پناہ رحمتوں ‘ مغفرتوں کے مشک و عنبر سے معطر فرمادے۔ اوران کے صاحبزادگان کو اپنے موقر عظیم جد امجد اورمثالی والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہما کے نقوش اقدام پر چلا کر ان کے لئے باقیات الصالحات وصدقات جاریہ بنادے۔آمین یا رب العالمین۔ کتبہ : خادم اہل العلم‘ شیر علی شاہ بجامعۃ دارالعلوم الحقانیۃ اکورہ ختک ۲۶۔۵۔۱۴۳۵ھ ۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ ورزقہ فی جنات الفردوس صحبتہ النبین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا