ماہنامہ الحق مارچ اپریل مئی 2014ء |
امعہ دا |
|
کے حال احوال پوچھنے کے لئے آتے جاتے۔ حضرت اقدس مفتی صاحب کے مہمان زیادہ ہوتے تھے‘ اس وجہ سے کھانے پینے کا سلسلہ ہروقت چلتا رہتا۔اکثر مفتی صاحب فرماتے تھے کہ آج صدر صاحب کو چاول‘ ترکاری وغیرہ دے دیں۔ اس وجہ سے بندہ اکثر ان کی کوارٹر میں جاتا رہتا۔ دوسرے سال بندہ کے کتابوں میں نفحۃ العرب بھی شامل تھا ‘ استاذ مکرم مولانا محمد ابراہیم صاحب پہلے سال مدرس ہوگئے اور ہمارے زیردرس کتاب مولانا صاحب کے حوالہ کی گئی۔اس سال حضرت الاستاذ میرے استاذ ہوگئے‘ اس وجہ سے علیک ‘ سلیک اور آمدورفت اختیار کرنے لگا‘ ایک بار فرمانے لگے تم درسگاہ میں شاگرد ہو اور باہردوست ہو‘ حضرت الاستاذ پیدائشی ادیب اورشاعر تھے‘ جب نفحۃ العرب ادب عربی کی کتاب جس میں عربی ادب کے اشعار قصص وغیرہ درج ہے۔ عربی اشعار کا ترجمہ وہ فارسی ‘ اردو‘ پشتو اشعار میں عام فہم انداز سے فرماتے تھے۔بندہ نے اپنی روزنامچہ کاپی میں اکثر اشعار درج کئے لیکن وہ کاپی فی الحال دستیاب نہ ہوسکی۔ ایک بار فرمانے لگے کہ میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ انسپکٹر صاحب سکول کے معائنہ کے لئے آنے والے تھے، طلبہ ایک دوسرے سے بڑھ کر اپنے اپنے کلاس روم کی آرائش وزیبائش میں حصہ لے رہے تھے رنگ برنگے چارٹ اوراشعار خوبصورت اور خوشخط دیواروں پر چسپاں کئے گئے تھے۔ میں نے بھی ایک بڑے سائز والے کاغذ کے حواشی پر گل کاری کی‘اور شعر کے انتخاب میں مضطرب رہا چونکہ یہ شعر کئی با رحضرت والد صاحب سے سنا تھا اس وجہ سے حافظہ میں محفوظ تھا باوجود اس کے لفظی مفہوم سے نابلد تھا۔ اس شعر کو جلی حروف سے لکھا‘ اتنے میں حضرت گھر تشریف لائے اور مجھے فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے کاغذ اس کے سامنے رکھ دیا۔ شعر پڑھا ‘ تبسم فرمایا ‘ کہنے لگے اس کا معنی اور مفہوم سمجھتے ہو؟ یا ویسے ہی کہیں سے نقل کیا ہے۔ یہ ابیات معلوم نہیں کسی صاحب دل کے ہیں لیکن حضرت والدصاحب مرحوم ان کو بہت ذوق شوق سے پڑھتے اور سنتے تھے۔ وہ ابیات یہ ہیں۔ حسن خویشاز روئے خوباں آشکارا کردہ ای بازبچشم عاشقوں خود ازتماشا کردہ ای پرتو حسنت نگنجد درزمین وآسمان درحریم سیند حیرانم کہ چوں جاکردہ ای درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای بازمیگومی کہ دامن ترکمن ہوشیار باش یہی اشعار اپنے والد مکرم حضرت صاحب کے حیات صدرالمدرسین ص۲۶۴۔۲۶۵ پر بھی درج کردئیے ہیں۔ یہ شعر اکثر بہت درد سے سناتے تھے اگر گوئم مسلمانم بلرزم کہ دانم مشکلاتے لا الہ الا