دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
دعوت الی اللہ کا موضوع فرمایا:دعوت الی اللہ کا موضوع یہی ہے کہ ترغیب وتحریص،(یعنی رغبت دلانااور حرص پیدا کرنا)عمل کے منافع ومحاسن اور اس کے متعلق اللہ اور اس کے رسول ﷺکے وعدوں اور وعیدوں کے( ذریعہ اور) ذکر کی کثرت اور اللہ کی صفات و عادات کو کھولنے کے ذریعہ اللہ کی بات قبول کرنے کی طرف بلایا جائے،تاکہ اللہ کی محبت و عظمت قلوب میں پیدا ہوکر دل خدا وند تعالی اور رسول اکرم ﷺ کی اطاعت پر آمادہ ہو جائے ،نہ کہ کسی قوت اور زور سے مجبور کرنا۔ (ارشادات ومکتوبات حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص ۹) فائدہ:حضرتؒ کے اس فرمان سے معلوم ہوا کہ دعوت الی اللہ کا موضوع اور اس کی اصل غرض وغایت اور اس تحریک کا مقصد یہ ہے کہ اس کام کے ذریعہ وعدوں اور وعیدوں کو بتلا کر لوگوں میں دینی جذبہ پیدا کیا جائے ، اعمالِ صالحہ کے منافع و محاسن بیان کرکے ان کے اندرذوق و شوق پیدا کیاجائے ، قلوب میں اللہ کی محبت وعظمت پیدا کرکے لوگوں کواللہ تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت پر آمادہ کیا جائے، قہر وجبر اور اکراہ کے ذریعہ نہیں بلکہ حسنِ اخلاق ، تواضع اور خوشامد کے ذریعہ ، یہ ہے دعوت و تبلیغ کا موضوع اور اصل غرض وغایت، اب اس کے آگے کام ہے زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ اور رسول کے احکام کی اطاعت کرنا ،اس کے لئے علم و علماء کی ضرورت ہے، اوراس مقصد کی تکمیل کے لئے علماء کو توجہ کرنے اور عوام کو علماء سے ربط رکھنے کی ضرورت ہے۔اس دعوت وتبلیغ کی بڑی غرض فرمایا: اس کام کی غرض اعلیٰ تو یہ ہے کہ جو میرا ہے میں اس کا ہوجاؤں ، اور دوسرے درجہ میں یہ ہے کہ جو میرے مرغوبات ہیں وہ موت کے بعد مل جائیں ( یہی تصوف کا بھی حاصل