دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
اصل خیریت تو یہ ہے کہ ہم صحابہ کے نقشِ قدم پر دینی کام میں لگے ہوئے ہوں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ تحریر فرماتے ہیں : خدام میں سے کوئی خیریت ، مزاج پوچھتا تو حضرت مولانا الیاس صاحبؒ فرماتے: ’’ تندرستی بیماری تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے ، اس میں کیا خیریت اور بے خیریت ، خیریت تو جب ہے کہ جس کام کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ کام ہو، اور حضور ﷺ کی روح مبارک کو چین ہو، صحابہ کرام کو حضور ﷺ نے جس حال میں چھوڑا تھا، اس میں ادنیٰ تغیر آنے کو بھی وہ خلاف خیریت سمجھتے تھے۔ ‘‘ (حضرت مولانا محمد الیاسؒ اور ان کی دینی دعوت ص ۱۷۴)تبلیغی کام انسان کی روحانی غذا ہے فرمایا:میرے محترم! یہ تبلیغی کام در حقیقت انسان کے روح کی غذا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو اس غذا سے بہرہ ور فرمایا، اب اس عارضی فقدان یا کمی پر بے چینی لازمی شئی ہے ، آپ اس سے پریشان خاطر نہ ہوں ، اگر کچھ روز کے لئے یہاں تشریف لانا ہوجائے توحق تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ نفع بخش ہوگا، تسکینِ خاطر بھی ہوگی اور کام کی جڑ بھی مضبوط ہوگی۔ (ان شاء اللہ) ( مکاتیب مولانا محمد الیاس صاحبؒ : ص۵۹)تبلیغی کام قربِ خداوندی اور حصولِ نسبت کا ذریعہ ہے فرمایا:تبلیغ میں بہت وجوہ سے اللہ کے تقرب اور نسبت یادداشت (جوتصوف کی خاص اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق کا حاصل ہوجانا جس سے