دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
صورۃً یہ بیماری اس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی کہ دنیا میں جیسے ہزاروں کو بخار آتے ہیں ایک آپ کو بھی آگیا، لیکن یہ بخاراس نسبت سے روئے زمین پر غالباً ممتاز ہوگا کہ بظاہر اس کا سبب ایک ایسی چیز کے لئے قدم اٹھانا ہے ، کہ ایک مردہ طریق کو (یعنی تبلیغ کو)ایقان اور محکم وپائیدار اور زندگی دینے کے لئے یہ قدم اٹھا تھا،وہ طرز زندگی اگر رائج ہوجائے اور جانیں جاکر بھی یہ راستہ کھل جائے تو امتِ محمدی کے نہایت مشغول رہنے والے اپنے مشاغل سے فارغ ہو سکنے والے افراد کو رشد وہدایت سے پورا پورا حصہ ملنے کا مردہ طریق زندہ اور پائدار ہوجائے گا۔ حق تعالیٰ شانہ‘ اس وجہ وجیہ پرنظر جما کراس کے شکر کی تو فیق نصیب فرماویں ، اور مرض میں بھی صحت سے زیادہ رضا جوئی کے طریق پر قوت بخشیں ۔ اللھم آمین (مکاتیب مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص۴۲ مکتوب ۴،مولانا محمد الیاس صاحبؒ اور ان کی دینی دعوت ص ۲۳۳)جتنامجاہدہ کروگے اسی کے بقدر اللہ تعالیٰ نوازے گا فرمایا:ایسے زمانے میں کہ روٹیوں کے واسطے جانیں جارہی ہوں دین کی کوشش میں بخار کا آجانا کچھ بڑی بات نہیں ،دنیوی معیشت کے اندر کے اسباب کی کوشش اور سعی کو جب تک دین کے درست کرنے والی چیزوں میں کوششوں اور سعی سے مغلوب نہیں کیا جائے گا اس وقت تک غیرتِ خداوندی دین کی دولت سے مالامال نہیں کرسکتی۔ عادات خداوندی عموماً دین میں اپنی جدّوجہد کی مقدار کے ساتھ وابستہ ہیں ،آدمی کسی مقصد کے لئے جتنا اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے اور تکالیف کو جھیلنے کے ذریعہ اپنے حالات ،جوارح،قلب اور قوتوں کی شکستگی اور تعب وانکسار کو پہونچتا ہے اتنا ہی حق تعالیٰ کی رحمت کے نزول کا سبب ہوتا ہے ،اَنَاعِنْدَالمُنْکَسِرَۃِ قُلُوْبُہُمْ ،وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا،کسی راہ کی ذلت کو اٹھائے بغیر اس کی عزت کو پہونچنا عادۃ ہوتا نہیں ۔ (مولانا محمد الیاسؒ اور ان کی دینی دعوت ص۲۳۱،۲۳۲)