دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
مندرجہ ذیل جواب تحریر فرمایا: السلام علیکم ……حالات سے بہت کچھ امیدیں ہوئیں اور مجھ کو اس سے پہلے بھی صرف آپ جیسے مخلصین کا مل جانا اور پھر مولوی محمد الیاس صاحب کا ساتھ ہوجانایقین کامیابی کی دلاتا تھا، علم غیب تو حق تعالیٰ کو ہے مگر میرا قلب شہادت دیتا ہے کہ ان شاء اللہ سب وفود سے زیادہ نفع آپ صاحبوں سے ہوگا۔ اشرف علی(اشرف السوانح ص۲۳۶جلد۳)دعوت وتبلیغ کے سلسلہ میں بھی حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ کاحکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ سے گہرا ربط مندرجہ بالا تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت وتبلیغ کے سلسلہ میں بھی حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ کاحکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ سے گہرا ربط تھا اور ابتدا میں آپ نے دعوتی وتبلیغی اسفار اور جدوجہد حضرت تھانویؒ کی زیر نگرانی ہی فرمائی ہے، اور یہ آپ کے تبلیغی سفر کا آغاز تھا اس کے بعد اُمت کے حالات کے پیش نظرآپ پورے طور پر تبلیغ میں منہمک ہوگئے، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی وفات ہوگئی، اس وقت حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ نے خصوصیت سے فرمایا کہ حضرت تھانوی ؒکی کتابوں سے استفادہ کیا جائے اس سے علم آئے گا، جو ہمارے تبلیغی چھ نمبر کا تیسرانمبر ہے اور فرمایا میں چاہتا ہوں کہ میری اس تبلیغ کے ذریعہ حضرت تھانویؒ کی تعلیمات عام ہوجائیں اور اُمت تک پہنچ جائیں ، یہاں تک کہ ارشاد فرمایا: مذکورہ بالا تفصیل سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کے علوم ومعارف اور کتاب وسنت کی تشریح اور دین کی تعبیر کے سلسلہ میں ان کی عقل وفہم پر حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ کو کس قدر اعتماد تھا کہ اپنی تبلیغ کے ذریعہ ان کی تعلیمات