دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
برداشت کرنی ہوتی ہیں ، ان کی وجہ سے اللہ کی رحمت خاص طور پر متوجہ ہوجاتی ہے۔ ’’ وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا‘‘ اسی واسطے اس سفر وہجرت کا زمانہ جس قدر طویل ہوگا اسی قدر مفید ہوگا۔ ( ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص۷۸ ملفوظ ۹۲)دعوت نمازاورقرآن تک پہونچنے کا ذریعہ ہے دعوت سے استعدادپیدا ہوتی ہے ، اس کے بعد قرآن ، اس کے بعد نماز ۔ (ارشادات ومکتوباتحضرت مولانا شاہ محمد الیاس صاحب: ص ۶۵) فائدہ:مطلب یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ میں لگنے اوراللہ کے راستہ میں نکلنے کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذریعہ اپنے اندر علم وعمل کی صلاحیت و استعداداور اس کی فکر پیدا ہوجاتی ہے نکلنے کے بعد اگر یہ طلب اور یہ استعداد پیدا نہیں ہوئی تو دعوت وتبلیغ کا مقصود حاصل نہیں ہوا۔ استعداد اور طلب پیدا ہوجانے کے بعد اب خصوصیت سے علم وعمل کی طرف توجہ کرنا چاہئے ،علم میں پہلا درجہ قرآن پاک کا ہے ،اور اعمال میں پہلا درجہ عبادت یعنی نماز کا ہے ، پہلے قرآن شریف کے الفاظ سیکھے اس کے معنی اور مطلب کو علماء سے معلوم کرے ، خود مطالعہ کرے یا علماء سے سنے اور سمجھے، اپنی نمازوں کو درست کرے ، اور علم وعمل میں کمال پیدا کرنے کے ذرائع اور وسائل اختیار کرے ، یہ ہے دعوت وتبلیغ کا مقصد اور کامیابی کا راستہ۔)جن کے اندر تبلیغ کی اہلیت نہیں وہ تبلیغ کس طرح کریں فرمایا:اگر کوئی شخص اپنے کو تبلیغ کا اہل نہیں سمجھتا ہے ، تواس کو بیٹھا رہنا ہرگز نہیں چاہئے ، بلکہ اس کو تو کام میں لگنے اور دوسروں کو اٹھانے کی اور زیادہ کوشش کر ناچاہئے ، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بڑا خیر ، چند نااہلوں کے سلسلہ سے کسی اہل تک پہنچ جاتا ہے ،ا ور پھر وہ پھلتا پھولتا ہے اور پھر اس کا اجر بقاعدہ ’’مَنْ دَعیٰ اِلیٰ حَسَنَۃِِ فَلَہُ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا، وَمَنْ سَنَّ فِی الْاسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا۔ ( حدیث)(یعنی جو کسی