دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
اس کام میں نکلنے اور لگنے کا مقصد حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرمایا: ’’ خوداس (کام) میں (یعنی تبلیغی کام میں نکلنے اور) لگنے کا جومقصود ہے کہ اللہ کے ساتھ تعلق (قائم ہونا) اور (پوری) شریعت کا پھیلناوہ بھی حق تعالیٰ بسہولت ظہور میں لائیں گے۔ ( مکاتیب حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص۲۵مکتوب نمبر۲) فائدہ: حضرتؒنے اپنی مختصر ہدایت میں واضح فرمادیاکہ دعوت و تبلیغ میں خروج یعنی نکلنا یہ خود مقصود نہیں بلکہ مقصود کاذریعہ ہے ، نکلنے کے بعد اگر وہ مقصود حاصل نہ ہوتو یہ مقصد میں ناکامی ہے، اس لئے نکلنے کے مقصد کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔ نکلنے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قوی اور مضبوط ہوجائے، وقت لگانے کے بعد جب وطن واپس ہوں اس وقت بھی وہ تعلق مع اللہ باقی رہے، جس کی علامت و دلیل اور جس کا طریقہ شریعت کے جملہ احکام کی پیروی کرنا ہے ، خواہ اس کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات و معاشرت اور اخلاق سے ، سب کے حقوق پہچاننا اور سب کے حقوق ادا کرناضروری ہے، اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کا صحیح تعلق قائم نہیں ہو سکتا۔ نکلنے کا یہ مقصد تو اپنی ذات کے تعلق سے تھا، نکلنے کا دوسرا مقصد ہے شریعت کا پھیلنا، یعنی رسول اللہ ﷺ جو دین و شریعت لے کر آئے ہیں جو قرآن وحدیث اور علماء کے سینوں میں محفوظ ہے اس کی اشاعت ،اور آپ کے لائے ہوئے پیغام اور نورِہدایت کا پھیلانا اسی وقت ممکن ہوگا جب اس کے طریقوں کو اختیار کیا جائے مثلاً شریعت کو پھیلانے اور اس کی حفاظت کے لئے مکاتب و مدارس کا قیام اور اس کا بقاء ضروری ہے،آپ کے لائے ہوئے