دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
ہوجائے، ہماری اس تحریک کا اصل مقصد اس وقت بس دین کی طلب و قدر پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہے نہ کہ صرف کلمہ اور نماز وغیرہ کی تصحیح و تلقین۔ ( ملفوظات حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒص ۷۷ ملفوظ ۹۱) فائدہ: مطلب یہ کہ پورے دین کی طلب اور قدر لوگوں میں پیداہوجائے تاکہ زندگی میں پیش آنے تمام مسائل خواہ اس کا تعلق عبادات ومعاملات سے ہویامعاشرت واخلاق سے سب کو علم دین اور شریعت کی روشنی میں حل کرے۔ تجدید ایمان اور تکمیل ایمان کی تحریکہماری اس تحریک کا مقصد لوگوں میں دینی جذبہ کو غالب کرنا ہے فرمایا:ہماری اس تحریک کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے سارے جذبات پر دین کے جذبہ کو غالب کرکے اورا س راستہ سے مقصد کی وحدت پیدا کرکے اور ’’اکرام مسلم‘‘ کے اصول کورواج دے کے پوری قوم کو اس حدیث کا مقصد بنایا جائے: ’’ اَلْمُسْلِمُوْنَ کَجَسَدٍ وَاحِدٍ‘‘ (یعنی دین کی بنیاد پر سب میں اتحاد واتفاق پیداہوجائے اور سب مسلمان جسدِ واحد یعنی ایک جسم کی طرح ہوجائیں ۔ ( ملفوظات حضرت مولانامحمد الیاس صاحب ص ۱۴۴ ملفوظ ۱۶۴) پس ہماری یہ تحریک درحقیقت تجدید ایمان اور تکمیل ایمان کی تحریک ہے۔ ( ملفوظات حضرت مولانامحمد الیاس صاحب ص ۱۴۶ ملفوظ ۱۷۰)ہماری تحریک کی بنیاد جذبات اور دل کے رخ کوبدلنا ہے مادّی منافع کے لئے دشمنانِ اسلام کا آلۂ کار بننے والے مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:’’ اگر تم ان میں شکم پرستی اور غرض پرستی کے بجائے خداپرستی کا جذبہ پیدا