دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
اور مزید آسانی اور جامعیت کے لئے معارف الحدیث جلد نمبر سات کی شمولیت ہر لحاظ سے مفید اور معاون ثابت ہوگی، اصلاح معاملات کے لئے ان کتابوں سے استفادہ کی یہ ترتیب زیادہ مناسب ہوگی، کہ پہلے فضائل تجارت کی تعلیم ہو پھر معارف الحدیث جلد۷؍ کی اس کے بعد سبقاً سبقاً کسی عالم کی رہنمائی میں صفائی معاملات کی تعلیم ہو، اہل علم اور ارباب تبلیغ کو اس پہلو پر خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک مکتوب میں حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒنے تحریر فرمایا ہے: ’’آگے چل کر کتب فضائل کے علاوہ دوسرے موضوعات پر کتابیں لکھوانے کا ارادہ ہے‘‘، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ حضرت کے ذہن میں کن موضوعات سے متعلق کس نوع کی کتابیں لکھانے کا خیال تھا، اغلب یہی ہے کہ اصلاح معاملات واصلاح معاشرہ وغیرہ سے متعلق کتابیں لکھانے کاخیال رہا ہوگا، کیوں کہ اپنے اس کام سے آپ معاملات اور معاشرت کی بھی اصلاح چاہتے تھے، آپ کی مخلصانہ خواہش کے نتیجہ میں غالباً یہ کام اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانامحمد منظور صاحب نعمانی ؒسے معارف الحدیث کی شکل میں لیا، اس لئے احقر کی ناقص رائے کے مطابق تبلیغی احباب کو اس کتاب سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ واللہ اعلم۔دوسرے موضوعات پر کتابیں لکھنے اور تبلیغی نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒکے فرمان کے مطابق ان کی دعوتی وتبلیغی جدّوجہد کا اصل مقصد ’’جمیع ماجاء بہ النبیﷺ ‘‘یعنی رسول اللہﷺ کی لائی ہوئی پوری شریعت کو زندہ کرنا اور زندگی کے تمام شعبوں (عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاق) میں اس کو نافذ کرنا ہے یعنی زندگی کی ہر لائن میں اور ہرفرد ومعاشرہ کی عملی زندگی میں پورادین آجائے بس یہ ہے اصل مقصد اس دعوت وتبلیغ کا اور ظاہر بات ہے کہ زندگی