دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
فضائل قرآن، فضائل نماز، فضائل ذکر، حکایات صحابہ، دونوں رسائل تبلیغ مولوی احتشام اور مولوی زکریا والا) ان کے ساتھ تبلیغ کی لائن میں قدم دھرنے والے تین طرزوں کے ساتھ بہت اشتغال رکھیں ، قلیل وقت ہومگر مداومت ہو۔ (۱) اول تبلیغ کے نکلے ہوئے زمانے میں (ان کتابوں کا) دیکھنا۔ (۲) دیگر مجمعوں میں ان مضامین کی دعوت دینا۔ (۳) دیگر مجمعوں اور خصوصی تذکروں میں ان مضامین کا اپنے غیروں سے سننا اور وہ کتب تبلیغ یہ ہیں جو اب تک تجویز ہوچکی ہیں ، (یعنی جزاء الاعمال، فضائل قرآن، فضائل نماز، فضائل ذکر، حکایات صحابہ، دونوں رسائل تبلیغ مولوی احتشام اور مولوی زکریا والا) اور بہت سے مضامین ذہن میں ہیں ، اہل علم کے استقلال سے کھڑے ہوجانے کے بعد ان مضامین میں تصانیف کا خیال ہے۔ ( مکاتیب حضرت مولاناشاہ محمد الیاس صاحبؒ ص۴۰مکتوب نمبر۵جمع کردہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ) اللہ ہی بہترجانتا ہے کہ اُس وقت حضرتؒ کے ذہن میں کون کون سے موضوعات اور کون کون سے مضامین تھے جن پر حضرتؒ علماء سے تصانیف کرانا چاہتے تھے ،ظاہر اور غالب یہ ہے کہ دین وشریعت کے جتنے شعبہ ہیں یعنی عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت وغیرہ سارے ہی شعبوں سے متعلق رفتہ رفتہ لکھونا چاہتے تھے صرف لکھوانا ہی نہیں بلکہ اپنی اس تبلیغ میں شامل بھی کرنا چاہتے تھے جس سے پوری شریعت زندہ ہوجائے۔حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ اپنی دعوتی وتبلیغی مہم کو ایک حد پر ٹھہرانا نہیں چاہتے تھے حضرتؒ کے مندرجہ بالا مکتوب سے یہ بھی اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے کہ آپ اپنی اس دعوتی تبلیغی مہم کو ایک حد پر ٹھہرانا نہیں چاہتے تھے بلکہ رفتہ رفتہ اس میں اضافے فرماکر