دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
کان رسول اللہ ﷺ فی الذروۃ العلیا فاستولیٰ علیٰ أنواعہ کلھا، فجاھد فی اللہ حق جھادہٖ بالقلب والجنان والدعوۃ والبیان والسیف والسِنان، وکانت ساعاتہ موقوفۃ علیٰ الجھاد بقلبہٖ ولسانہٖ ویدہٖ۔ (زادالمعادص۳۸ ج۲) قال الحافظ: الجھاد شرعاً بذل الجھد فی قتال الکفار وأطلق ایضاً علی مجاھدۃ النفس والشیطان والفساق فأما مجاہد ۃ النفس فعلیٰ تعلّم الدین، ثم علی العمل بہا ثم علی تعلیمھا، وأما مجاہدۃ الشیطان فعلیٰ دفع مایأتی بہ من الشبہات وما یزینہ من الشہوات ، وأما مجاہدۃ الکفار فتقع بالیدوالمال واللسان والقلب، وأما مجاہدۃ الفساق فبالید ثم اللسان ثم القلب۔ (فتح الباری شرح بخاری کتاب الجہاد،ص۳،ج۶، بذل المجہودشرح ابودائو ص۴۰۰،ج۳)مروّجہ دعوت وتبلیغ کا طریقہ طریقۂ نبوت کے زیادہ مشابہ ہے حضرت مولانا محمد الیاس صاحب ؒفرما رہے ہیں جہاد فی سبیل اللہ کی یہ صورت جس میں اعلائے کلمۃ اللہ کی محنت ، گشت و ملاقات اور چلت پھرت کے ذریعہ ہو،یہ طریقہ طریقۂ نبوت کے زیادہ مشابہ اور قریب ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد صحابۂ کرام نے گشت اور سفر کرکے دعوت وتبلیغ کا کام کیا ہے، اس لئے کام کی یہ نوعیت رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کے زیادہ قریب اور مشابہ ہے، اس میں برکت بھی ان شاء اللہ زیادہ ہوگی ، اسلئے تمام اہلِ علم اور واعظین و مقررین کو بھی چاہئے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے گشت وسفر اور شدِّرحال کابھی اہتمام کریں ، اور الحمد للہ ہمارے اکابر برابر کرتے چلے آرہے ہیں ، اسی طرح تبلیغی احباب بھی الحمد للہ سفر کے بعد گشت کے ذریعہ لوگوں میں حق بات پہونچاتے ہیں ، حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ فرمارہے ہیں کہ یہ طریقہ دوسرے طریقوں کے مقابلہ میں زیادہ نافع اور باعثِ برکت ہے۔