دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
صاحبؒبڑی قوت اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں : ’’زیادہ زور اس پر دیا جائے کہ قوم اپنی پنچایتیں اور اپنے سب کاروبار اور سب فیصلے شریعت کے موافق کرنے ہی کو اسلام سمجھیں ، ورنہ اسلام نہایت ناقص ہے، بلکہ بسااوقات احکام شرعیہ کی بے وقعتی اور بے رخی اور توہین کی بدولت اسلام جاتا رہتا ہے اور یقینا کفر ہوجاتا ہے۔ (مولانامحمد الیاسؒ اور ان کی دینی دعوت ص۲۴۱) حضرت مولانامحمدالیاس صاحبؒ کے فرمان کے مطابق اس کام کے کرنے کا طریقہ آئندہ صفحات میں آرہا ہے۔اپنے نزاعی معاملات ومقدمات شرعی پنچایت اور دارالافتاء ودارالقضاء سے حل کرائیے اسی طرح حضرت مولاناالیاس صاحبؒایسے موقعوں میں جہاں تبلیغی کام کی جڑیں مضبوط ہوچکی ہوں مثلاً مولانا کے وقت میں میوات کی صورت حال ایسی ہی بن چکی تھی، مولانافرماتے تھے کہ ایسے علاقوں میں ایسا اجتماعی نظام بنایا جائے کہ ان کے عائلی ومعاشرتی مسائل، اور مسلمانوں کے آپسی اختلافات اور باہمی نزاعات کے فیصلے قرآن وحدیث کی روشنی میں کئے جائیں ، مثلاً اسلامی عدالت، دارالقضاء اور شرعی پنچایت کا نظام قائم کیا جائے اور مستند ومعتبر علماء ومفتیوں سے یہ خدمت لی جائے، چنانچہ حضرت مولاناالیاس صاحبؒارشاد فرماتے ہیں : ’’میں اب میوات میں یہ بات پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے نزاعات کا فیصلہ اللہ ورسول سے تعلق رکھنے والوں سے(یعنی علماء سے) شریعت کے مطابق کرائیں اور ان کا جذبہ یہ ہوکہ اللہ ورسول سے تعلق رکھنے والوں کے فیصلہ سے اگر آدھابھی مل جائے تو وہ سراسر رحمت اور برکت ہے، اور خلاف شریعت فیصلے کرنے والے سارابھی دلوائیں تو وہ وبال اور بے برکت ہے۔ (ملفوظات حضرت مولانامحمدالیاس صاحبؒ ص۱۰۷، ملفوظ نمبر۱۳۰)