دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
کے حقوق کی کامل معرفت اور ان کے ادائیگی کی فکر اور اہتمام ہو ، الغرض زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے، دوسروں تک پہنچایا جائے یہ مطلب ہے شریعت کے پھیلنے کا اور یہی اصل مقصد ہے اس تبلیغی کا م کا۔اس تحریک کا مقصداور اس کام کی بنیاد حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒحضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کو ایک خط میں اپنی اس تحریک کا مقصد اس طرح تحریر فرماتے ہیں : نماز ، روزہ ، قرآن، انقیاد ِمذہب اور اتباعِ سنت کا نام لینے اور ان چیزوں کا تذکرہ کرنے سے ان چیزوں کے ساتھ عالم اسلام میں تمسخر اور مضحکہ اور استخفاف کا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رہتا، امورِ مذکورہ کی حرمت و عظمت کی طرف دعوت دینے ہی پر اس تبلیغ کی تحریک کا مدار ہے ، اور یہی اس کی بنیاد ہے کہ استخفاف (ہلکا سمجھنے) سے تعظیم کی طرف فضاء عالم کے انقلاب کی کوشش کی جائے۔ (حضرت مولانا محمد الیاس ؒاور ان کی دینی دعوت ص ۲۷۹)اسلام کو جنم دینے والی تحریک اس تحریک کا اہم اصول اور اس کی خاصیت حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم میری تحریک ایمان کی تحریک ہے ۔( ارشادات ومکتوبات مولانا محمد الیاس ص ۲۷) یہ تحریک اسلام کو جنم دینے والی ہے۔ (ارشادات ومکتوبات مولانا محمد الیاس ص ۳۲،۳۶) ہماری تحریک اور اسلامی تبلیغ نہ کسی کی دل آزادری کو پسند کرتی ہے ، نہ کسی فتنہ و فساد کے الفاظ سننا چاہتی ہے۔ (مکاتیب حضرت مولاناشاہ محمد الیاس صاحبؒ،ص۱۴۲)