دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
صورتیں ہیں ۔ (۱) (تعلّمِ دین)یعنی علم دین حاصل کرنا ، دینِ حق اور صراطِ مستقیم معلوم کرنا، جس کے بغیر آدمی کامیابی اور سعادت کی منزلیں نہیں طے کرسکتا۔ (۲) دوسرے علم دین حاصل کرنے کے بعد اس کے مطابق عمل کرنا، ورنہ محض علم بلاعمل تو اس کے لئے بجائے مفید ہونے کے مضر ہوگا۔ (۳) علم وعمل کے بعد دوسروں کو انہیں باتوں کو سکھلانا اور دعوت دینا، ناواقفوں کو بتلانا ، سمجھانا ورنہ کتمانِ علم اور کِتمانِ حق کے گناہ کے وبال میں گرفتارہوگا۔ (۴) جہادِ نفس کی ان تینوں قسموں کو حاصل کرنے میں آدمی کو جو مشقت حاصل ہو خصوصاً دعوت وتبلیغ اور تعلیمِ دین کے سلسلہ میں جن مشقتوں اور ناگوار حالات کا سامنا کرنا پڑے ان کو برداشت کرنا یہ بھی جہادہے، علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں جو جہاد نفس کی ان چاروں صورتوں کو اختیار کرے گا اس کا شمار ربّانیّین میں سے ہوگا، سلفِ صالحین ان چاروں کے جامع ہوتے تھے۔{۲}جہاد کی دوسری قسم شیطان سے جہاد کرنا علامہ ابن قیمؒ اور حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں :شیطان سے جہاد کرنے کی دو صورتیں ہیں : (۱) ایک تویہ کہ پورے دین وشریعت اور صراطِ مستقیم کی حفاظت کرنا اور اس سلسلہ میں جس نوع کے بھی شکوک و شبہات اور اعتراضات کئے جائیں وہ سب شیطانی ہیں ، ان سب کا جواب دینا ،قلع قمع کرنا، ان شبہات کو دور کرنا یہ شیطان سے جہاد کرنا ہے،خواہ کسی شکل میں ہو۔ (۲) شیطان سے جہاد کی دوسری قسم یہ ہے کہ شہوات یعنی خواہشاتِ نفس کے قبیل کی جتنی غلط چیزوں کو شیطان نے مزّین کرکے پیش کیا ہے ( خواہ وہ دینی رنگ میں ہوں جیسے