دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
باب ۴ دعوت وتبلیغ کے ذریعہ پورا دین زندہ کرنے کا طریقہ ’’تبلیغی جماعت‘‘ جس کی بنیاد حضرت مولانامحمد الیاس صاحب کاندھلویؒ نے ڈالی تھی، اس سے حاصل ہونے والے دینی فوائد کا انکار نہیں کیا جاسکتا اس کام کی مقبولیت کی علامت یہ ہے کہ وقت کے تمام اکابر علماء ومشائخ خصوصاً دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، ندوۃ العلماء لکھنؤ، مدرسہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، مدرسہ امینیہ دہلی کے کبار علماء نیز سلسلہ نقشبندیہ وچشتیہ وقادریہ کے مشائخ نے بھی اس کام کی پوری تائیدوحمایت کی، یہ کام ہمارے تمام اکابر کا قیمتی سرمایہ ہے، اس کام کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم سب کی پوری کوشش اس بات کی ہونی چاہئے کہ ماضی قریب میں اب تک اس کام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اُمت کو دینی فائدے پہنچائے ہیں آئندہ بھی اس کی افادیت اسی طرح باقی رہے، اس کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وقت کے اکابر علماء ومشائخ اور اس کام سے جڑے ہوئے پرانے حضرات، خصوصیت کے ساتھ نہایت سنجیدگی سے اس کی طرف متوجہ ہوں اور غوروفکر سے کام لیں ۔حضرت مولانامحمد الیاس صاحب کاندھلویؒ کی فکر حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ نے جن اصولوں اوربنیادوں پر اس کام کو شروع کیا، اور اس کام سے حضرت مولانامحمد الیاسؒ جو چاہتے تھے، اس مقصد کی تکمیل کے لئے جن جن بعض کاموں کے کرنے کی آپ نے ہدایت فرمائی تھی ان باتوں کو ہمارے اکابر اور معتبر علماء نے نقل فرمایا ہے، ہمارے بہت سے کام کرنے والوں کے پیش نظر وہ باتیں نہیں ہیں ، اس لئے ان کاموں کی طرف توجہ بھی نہیں ، ذیل میں ہم حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ کی اسی نوع کی چند باتیں اپنے مخلصین کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں جس