دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
بدعات وغیرہ یا خواہشِ نفسانی کے رنگ میں ) ان سب سے متأثر نہ ہونا، اور ان میں مشغول نہ ہونا، ان کی پیروی نہ کرنا بلکہ ان سب کو مغلوب کرنا اور ان کے ازالہ کی کوشش کرنا، یہ شیطان سے جہاد کی دوسری قسم ہے۔{۳}جہاد کی تیسری قسم کافروں سے جہاد کرنا علامہ ابن قیمؒ اور حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ کفار سے بھی جہاد کی چارقسمیں ہیں ۔ (۱)جہاد بالقلب: یعنی کافروں سے قلب کے ذریعہ جہاد کرنامطلب یہ کہ طاقت اور قوت نہ ہونے کی صورت میں ان کے کفریہ وشرکیہ اقوال و اعمال کو دل سے بُرا سمجھنا، اور اگر اللہ نے باطنی وروحانی قوت کسی کوبخشی ہوجس سے وہ کفر وشرک کو مغلوب کرسکتا ہوتو اس قوت کے ذریعہ کفر وشرک کو مغلوب کرنے کی کوشش کرنا، یہ جہاد بالقلب ہے۔ (۲)جہاد باللسان:کافروں سے زبان کے ذریعہ جہاد کرنے کا مطلب واضح ہے کہ قوتِ بیانیہ یعنی تقریر وتحریر کے ذریعہ کفروشرک کو باطل کرنا، اور توحید ورسالت اوراسلام کی حقانیت کوثابت کرنا،دینِ اسلام کے محاسن اور خوبیوں کو بیان کرنا اور کفرو شرک کی قباحتوں و خباثتوں کو بیان کرنا، یہ کافروں سے جہاد کی دوسری قسم ہے۔ (۳)جہاد بالمال:یعنی کافروں سے ما ل کے ذریعہ جہاد کرنا،مطلب یہ ہے کہ کفر وشرک ختم کرنے اور توحید ورسالت کو ثابت کرنے میں اگر مال خرچ کرنے کی ضرورت پیش آئے مثلاً جلسوں اور پروگراموں میں مال خرچ کرنے کی ضرورت ہو، یا کافروں تک حق پیغام پہنچانے اور باطل کی تردید کے لئے رسائل وجرائد کی اشاعت اور دیگر ذرائع ابلاغ اختیار کرنے کی ضرورت ہو تو اس میں مال خرچ کرنا یہ جہاد بالمال ہے۔ (۴)جہاد بالسیف:کافروں سے جہاد کی چوتھی قسم ہے اپنی جانوں کے ذریعہ جہاد کرنا،یعنی اللہ کے کلمہ کوبلند کرنے اور اسلام کو پھیلانے اور کلمہ کی دعوت کو عام کرنے