دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
فائدہ:حضرتؒ نے اختصار کے ساتھ کتنے اعتدال کی بات فرمائی کہ دین کے مختلف شعبے اور دین کے بہت سے کام ہیں اور سب ضروری ہیں ، بہت سے دینی کاموں کوانجام دینے کے لئے بڑی صلاحیت و لیاقت کی ضرورت ہوتی ہے ، دین کے ضروری کاموں میں مکاتب ومدارس کا قیام بھی ہے، دارالافتاء اور دارالقضاء کا نظام بھی ہے ، معاشرہ کی اصلاح اور امت میں رائج منکرات پر نکیر بھی ہے، تصنیف و تالیف بھی اور اسلام پر ہونے والے حملوں اور اعتراضات کے جوابات بھی ، اسلامی قوانین کی حفاظت بھی اور مسلمانوں کے تشخص کو برقرار رکھنے کی کوششیں بھی وغیر ذلک، لیکن یہ سب اور اس نوع کے بہت سے دینی کام ایسے ہیں جن کے لئے بڑی علمی صلاحیت ولیاقت کی ضرورت ہے ، اس لئے ہر شخص اور امت کا بڑا طبقہ ان سب کاموں کو انجام نہیں دے سکتا، فتویٰ ہر شخص نہیں دے سکتا، عالم کو رس ہر ایک نہیں پڑھا سکتا، تصنیف وتالیف ہر ایک نہیں کر سکتا، منکرات پر نکیر ہر شخص نہیں کر سکتا، کیونکہ ان سب کے لئے بڑی علمی لیاقت اور صلاحیت کی ضرورت ہے ۔ حضرت مولانا محمدالیاس صاحبؒ فرما رہے ہیں کہ دین کے سارے کام ضروری ہیں لیکن صلاحیت نہ ہونے کی بنا پر اگر تم دوسرے کا م نہیں کر سکتے تم حافظہ نہیں پڑھا سکتے تم تصنیف نہیں کرسکتے، تو بس تم اس تبلیغ میں لگ جاؤ، یہ آسان کام تو کر سکتے ہو، اس میں اتنی لیاقت کی ضرورت نہیں ، بس اس میں لگ جاؤ، اس کی برکت سے بھی انشاء اللہ خیر کا وجود ہوگا، شر کا خاتمہ ہوگا۔کس حالت میں کن لوگوں پر تبلیغ فرض ہے؟ فرمایا:تبلیغ ہے فرض، ہر ایک مسلمان پر فرض عین ہے۔ (ارشادات ومکتوبات حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص۸۲) فائدہ:تبلیغ فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے : ’’ یَا أیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إلَیْکَ مِنْ رَبِّکْ۔ (پ ۶،سورہ المائدہ)