دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
دوسرے شخص کو نیک کام کی دعوت دے تو اس داعی کو ا س کے عمل کا تو ثواب ملے گا ہی، دعوت کے نتیجے میں جتنے لوگ بھی اس پر عمل کریں گے ان سب کا ثواب بھی ا س داعی کو ملے گا، اسی طرح اسلام میں جو کسی عمدہ طریقہ کو اختیار کرے گا اس کا ثواب اس کو تو ملے گا ہی جتنے لوگ بھی اس طریقہ کو اختیا رکریں گے ان سب کا ثواب بھی اس کو ملے گا، یہ شریعت کا ضابطہ ہے، اس ضابطہ کے پیشِ نظر)ان نااہلوں کو بھی پورا(ثواب) پہنچ جاتا ہے جو اس کام کے اُس اہل تک پہنچنے کا ذریعہ بنے ، پس جو نااہل ہواس کوتو اس کام میں اور زیادہ زور سے لگنا ضروری ہے … میں بھی اپنے کو چونکہ نا اہل سمجھتا ہوں اس لئے اس میں منہمک ہوں کہ شاید اللہ میری اس کوشش سے کام کو اس کے کسی اہل تک پہنچا دے اور پھر اس کام کا جو اعلیٰ اجر اللہ پاک کے یہاں ہو وہ بھی مجھے عطا فرما دیا جاوے۔ ( ملفوظات مولانا محمدالیاس صاحبؒ :ص۷۰ملفوظ ۷۶)اپنے باغ کا پھل کھاؤ فرمایا: یہ سب کچھ تم سن رہے اور تبلیغی محنت کی بہار دیکھ رہے ہو اور لطف اٹھا رہے ہو، یہ یوں ہے جیسے کوئی دوسرے کے باغوں کے میووں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے ، مزہ کی بات تو یہ ہے کہ اپنے باغ کا پھل پیدا کرو ، اور یہ چیز بغیر محنت اور قربانی کے کیوں کر آسکتی ہے۔ (مولانا محمد الیاس صاحبؒ اور ان کی دینی دعوت ص۱۶۶)