دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
جاسکتی ہے لہٰذا ایسے وسائل کو اختیار کرنا بھی ضروری ہوگا، چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ اور دیگر اکابر نے اپنے اپنے زمانہ میں تبلیغِ حق کے لئے جدیدذرائعِ ابلاغ کا استعمال فرمایا ہے، حضرت مولانامفتی شفیع صاحبؒ کا درسِ قرآن اور مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی اصلاحی تقریروں کا ریڈیو کے ذریعہ نشر ہونا معروف و مشہور ہے۔غیر مسلموں کو اسلام کی تبلیغ حضرت مولانا محمد الیاسؒ نے اپنے مذکورہ ارشاد میں ’’ اشاعتِ اسلام‘‘ کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے ، اس کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے، عربی زبان میں متکلمین و محدثین کی اصطلاح میں اسلام و ایمان میں اگر چہ واقعی فرق ہے، لیکن اردو محاورہ اور ہمارے عرف میں اسلام کی تبلیغ اور اشاعتِ اسلام سے مراد عموماً غیر مسلموں کو اسلام کی تبلیغ کرنا ہی مراد ہوتا ہے، نیز خود قرآن و حدیث میں بھی متعدد موقعوں میں لفظ اسلام کافروں کی تبلیغ کے لئے استعمال ہوا ہے، چنانچہ بخاری شریف کی حدیث ِھرقل میں ’’أسْلِمْ تَسلَم ‘‘کا لفظ آیا ہے ، نیز مسلم شریف کی ایک روایت میں یہودیوں سے آپ نے فرمایا :اَسْلِمُوْاتَسْلِمُوْا،نیزقرآن پاک میں ہے: فَمَا َوجَدْنَافِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔(سورہ ذٰریٰت،پ۲۷) یہاں پر آیت وحدیث میں لفظِ ’’اسلام‘‘ سے ایمان ہی مراد ہے۔ الغرض حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ سے غافل نہ تھے، مختلف موقعوں میں آپ نے اس کی طرف بھی لوگوں کو توجہ دلائی ہے ، اور اپنے عزم مصمم کا ارادہ ظاہر فرمایا ہے، نیز غیر مسلموں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کا طریقہ بھی ارشاد فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں : غیر قوموں کے ساتھ وہ برتائو کرو جو اپنوں کے ساتھ کرتے ہوتاکہ وہ اسلام میں داخل