دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
ہروقت اللہ تعالیٰ کا استحضار رہے اس) کے پیدا ہونے کے ایسے قوی اسباب جمع ہیں کہ اگر قدرداں اس میں جانبازی اور سرفروشی کریں تو ہزاروں جان اور سر اس کی قیمت میں ارزاں (سستے) ہیں ۔ ( مکاتیب مولانا محمد الیاس صاحبؒ :ص۵۷)تبلیغی کام بڑے درجہ کی ریاضت ہے فرمایا:یہ تحریک درحقیقت بہت بڑے درجہ کی ریاضت ہے، افسوس ! لوگ اس کی حقیقت کو سمجھتے نہیں ۔ ( ملفوظات مولانا محمدالیاس،ؒ ص۷۹ ملفوظ ۹۴)جو اس کام میں لگے گا اللہ اس کی نصرت کرے گا دلّی کے ایک تاجر ایک تبلیغی جماعت کے ساتھ کام کرکے سندھ سے واپس آئے تھے ، وہاں کے کام کی رپورٹ ان سے سن کر حضرت نے فرمایا: ’’ دوستو ! ہمارا یہ کام (اصلاحی و تبلیغی جدو جہد) ایک طرح کا عمل تسخیر ہے (یعنی جو کوئی اس کام میں لگے گا اور اس کو اپنی دھن بنا لے گا اللہ تعالیٰ اس کے کام بناتا رہے گا) ’’ مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَا نَ اللّٰہُ لہٗ‘‘ اگر تم اللہ کے کام میں لگو گے تو زمین وآسمان اور فضا کی ہوائیں تمھارے کام انجام دیں گی… تم اللہ کے کام میں گھر اور کاروبار چھوڑ کے نکلے تھے، اب آنکھوں سے دیکھ لینا کہ تمھارے کاروبار میں کتنی برکت ہوتی ہے… اللہ کی نصرت کر کے جو اس کی نصرت ورحمت کی امید نہ رکھے وہ فاسق اور بے نصیب ہے۔‘‘ مرتِّب عرض کرتا ہے کہ آخری فقرہ آپ نے ایسے انداز اور اتنے جوش سے کہا کہ حاضرینِ مجلس کے دل ہِل گئے۔ (ملفوظات مولانا محمد الیاسؒ :ص۱۱۳ ملفوظ۱۳۶)