دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
جہاد بھی فرائض ِ اسلام میں سے ہے فرمایا:جہاد بھی ارکانِ اسلام میں سے ہے ، مگر عام طور سے پانچ ارکان کا ذکرہوتاہے، قتال جہاد کا آخری درجہ ہے، حقیقت میں جہاد دین کے اندر کی کوشش کا نام ہے اس کوتبلیغ کہتے ہیں ۔ (ارشادات ومکتوبات حضرت مولانا محمد الیاسؒص ۷۷) فرمایا:اسلام کی پانچ بنیادوں کے ساتھ جہاد بھی ہے ، جہاد ارکان میں سے ہے، اور جنگ جس چیز کا نام ہے اس میں امام اور نظام شرط ہے۔ ( ارشادات ومکتوبات حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص ۲۸) فائدہ:اسلام کی بنیاد صرف پانچ چیزوں پر ہے ، کلمۂ توحید وشہادت، نماز، روزہ،زکوٰۃ، حج جیسا کہ بخاری ومسلم شریف کی روایت میں آیا ہے، اس کے علاوہ دوسرے فرائضِ اسلام ہیں ان میں جہاد بھی ہے ، فرائضِ اسلام ہونے کی وجہ سے ان کو ارکانِ اسلام بھی کہہ دیا جاتاہے۔ لیکن اسلام کے حقیقی اور بنیادی ارکان صرف پانچ ہی ہیں ، ان میں جہاد شامل نہیں ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا: ’’بنی الاسلام علیٰ خمس شھادۃ ان لا الٰہ الا اللہ … الخ (مسلم شریف، کتاب الایمان، حدیث ۱۱۴) مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے عرض کیاگیا کہ آپ جہاد میں کیوں نہیں جاتے؟اور آپ جہاد کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے اس کے جواب میں حدیث پڑھی : ’’بنی الاسلام علیٰ خمس الخ…یعنی رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی پانچ بنیادیں بتلائی ہیں ان میں جہاد نہیں ہے، اس لئے اس کو اپنے درجہ میں رکھو، اس کو بنیادی ارکان میں شامل نہ کرو، یہ مطلب نہیں کہ آپ جہاد کی اہمیت کے قائل نہیں تھے، پوری حدیث یہ ہے: ان رجلاً قال لعبداللہ بن عمر ألا تغزوا؟ فقال انی سمعت رسول اللہﷺ