دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
دو شخصوں میں صلح کرانے کا ذرا سوچو کہ کتنا بڑا اجر ہے، پھر امت کے مختلف طبقوں اور گروہوں میں مصالحت کی کوشش کا جواجر ہوگا اس کا کوئی کیا اندازہ کر سکتا ہے ۔ ( ملفوظات حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ: ص ۸۵ ملفوظ ۱۰۲) فائدہ: افسوس کہ جس تحریک کا وجود ہی اس غرض سے ہوا تھا اور جس کے مقاصد اصلیّہ میں سے تھا کہ علماء وعوام ، اہلِ دین و دنیا، اہلِ مدارس وخانقاہ اور اہلِ تبلیغ میں جوڑ والفت اور اتحاد واتفاق قائم ہو افسوس کہ بہت سے علاقوں میں حدود سے تعدی اور غلو کے نتیجہ میں نیزمشائخ سے دوری، علماء سے بیزاری، مدارس اور دین کے دوسرے شعبوں اور کاموں کی ناقدری اور عجب وخود پسندی کے نتیجہ میں سخت انتشار واختلاف پیداہورہاہے اور ہم اپنے اصل مقصد سے دور ہوتے جارہے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔علماء کی قدر ومنزلت کے ساتھ دینی تعلیم کو عام کرنا ہماری تحریک کا مقصد ہے فرمایا ہماری یہ تبلیغی تحریک، دینی تعلیم وتربیت پھیلانے اور دینی زندگی کو عام کرنے کی تحریک ہے ، اور اس کے جو اصول ہیں بس ان ہی کی رعایت اور نگہداشت میں اس کی کامیابی کا راز مضمر ہے، ان اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ ہے کہ مسلمانوں کے جس طبقہ کا جو حق اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے اس کو ادا کرتے ہوئے اس دعوت کو ا س کے سامنے پیش کیاجائے۔ مسلمانوں کے تین طبقے ہیں :(۱) پسماندہ (غرباء) (۲) اہلِ وقار (۳) علماء دین ان سب کے ساتھ جو معاملہ ہونا چاہئے اس کو یہ حدیث جامع ہے: ’’ من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا ولم یبجل علمائنا فلیس منا۔‘‘ (ابوداؤد، مسند احمد)