دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
نیز ایک روایت میں آیاہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ جہاد کے موقع پر صحابہ سے فرمایاکہ تمہارے بہت سے بھائی جو جہاد میں شریک نہیں ہوسکے بیماری اور عذر نے ان کو روک دیا وہ تمہارے ساتھ ہر موقع پر جہاد میں شریک ہیں ، یعنی اجر وثواب میں ۔ (بخاری ومسلم،مشکوٰۃ شریف ،ص۳۳۱،عن جابر،ابودائود باب الرخصۃ فی القعود من العذر،حدیث ۲۵۰۸) رسول اللہﷺ کے ان ارشادات سے معلوم ہوا کہ مرض اور عذر کی رعایت کرنا اور اس کی وجہ سے نہ جاسکنا معصیت نہیں ورنہ رسول اللہﷺ ایسا کیوں فرماتے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ عذرکی وجہ سے اگر شخص کوئی نیک کام نہ کرسکے حالانکہ وہ اس کام کو کرنا چاہتاتھاتب بھی اللہ تعالیٰ اس کو بغیر عمل کے بھی ثواب عطا فرمائے گا،بخاری شریف میں حضرت ابوموسیٰؓ کی روایت ہے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: إذا مرض العبد أوسافر کتب لہ صالح ماکان یعمل وھو صحیح مقیم،قال الحافظ فی الفتح ولہ شواہد کثیرۃ۔(بخاری شریف،کتاب الجہاد،کذا فی تحفۃ الاحوذی ص۳۱۱،ج۲) یعنی جب کوئی بندہ بیماری یا سفر کی وجہ سے وہ نیک کام نہیں کرپاتا جو حالت صحت اور حالت اقامت میں کیا کرتا تھاتو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ان کاموں کا ثواب لکھ دیا کرتا ہے جن کو وہ حالت صحت و اقامت میں کیا کرتاتھا۔ باقی حضرت مولانا الیاس صاحبؒ نے جو کچھ فرمایااور جو کچھ کیایہ آپ کا جذبہ اور غلبۂ حال تھا ، اللہ تعالیٰ کو آپ سے اس حالت میں بھی یہ کام لینا تھا،بعض صحابہ کرام کے بھی ایسے حالات منقول ہیں ، ان کا بھی یہ غلبۂ حال ہی تھا ،واللہ اعلم۔دعوت وتبلیغ کی فکر اور دھن فرمایا :میں اگرکسی طبیب کو بھی علاج کے لئے بلاتا ہوں تو در اصل تبلیغی کام کو پیش نظر رکھ کے بلاتا ہوں اور اس سے اپنا علاج کرانے کو اُس کو اللہ کے کام میں لگانے کا بہانا