دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
حضرت مولانا محمدالیاس صاحبؒ نے فرمایاہماری تحریک کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ پورے اسلام کو جنم دینے والی ہے، یعنی اسلام کے اور دین وشریعت کے سارے شعبوں کو زندہ کرنے والی اور درست رکھنے والی ہے ، خواہ اس کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبہ سے ہو۔ اسی طرح اس تحریک (دعوت وتبلیغ) کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ فتنہ وفساد لڑائی جھگڑے اور کسی کی دل آزاری کو پسند نہیں کرتی ، اس دعوت وتبلیغ میں لگنے والوں کا طرّہ ٔامتیاز اور خصوصیت یہی ہے کہ وہ ان سارے کاموں کو انجام دیتے ہیں لیکن فتنہ وفساد کی باتوں سے اور کسی کی دل آزاری سے بھی پرہیز کرتے ہیں کیونکہ یہ بات ان کے اصول وآداب کے خلاف ہے۔اس کام کا اہم مقصدیہ بھی ہے کہ ہر جگہ کے علماء اور اہلِ دین ودنیا میں جوڑ والفت پیدا ہو فرمایا: اپنی اس تحریک کے ذریعہ ہم ہر جگہ کے علماء اور اہلِ دین اور دنیاداروں میں میل وملاپ اور صلح وآشتی بھی کرانا چاہتے ہیں ۔ نیز خود علماء اور اہلِ دین کے مختلف حلقوں میں الفت و محبت اور تعاون و یگانگت کا پیدا کرنا اس سلسلہ میں ہمارے پیشِ نظر ، بلکہ ہمارا اصل مقصد ہے ، اور یہ دینی دعوت ہی انشاء اللہ اس کا ذریعہ و وسیلہ بنے گی، افراد اور جماعتوں میں اختلافات اغراض ہی کے اختلافات سے تو پیدا ہوتے اور ترقی کرتے ہیں ، ہم مسلمانو ں کے تمام گروہوں کو دین کے کام میں لگانے اور خدمتِ دین کو ان کا سب سے اعلیٰ مقصود بنانے کی اس طرح کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے جذبات اور طریقِ عمل میں موافقت ہوجائے، صرف یہی چیز نفرتوں کو محبتوں سے بدل سکتی ہے۔